Urdu book · تصویر ملت

منفی عمل

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

منفی عمل ایک مغربی مصنف نے کہا کہ ہر بار جب میں حقیقت کے لیے اپنا دروازہ بند کرتا ہوں تو وہ کھڑکی کے راستے سے میرے گھر کے اندر داخل ہوجاتی ہے: Every time I close the door on reality, it comes in through the window. — Ashleigh Brilliant یہ بہت بامعنی قول ہے۔ حقیقت کی مثال سیلاب کی سی ہوتی ہے۔ اگر کوئی بند ٹوٹ جائے اور سیلاب کا دھارا آپ کے گھر کی طرف رخ کرے تو آپ اپنا دروازہ بند کر کے اس سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ نے سامنے کا دروازہ بند کیا تو وہ پیچھے کے دروازہ سے آپ کے گھر کے اندر داخل ہو جائے گا، حتیٰ کہ اگر آپ اپنے تمام دروازے اور تمام کھڑکیاں بند کر لیں تو وہ دیوار کو توڑ کر آپ کے گھر میں گھس پڑے گا۔ اس قسم کی کوئی تدبیر سیلاب کو روکنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان مکمل طور پر اس کے مصداق ثابت ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں حقائق کا ایک نیا طوفان اٹھا۔ اس نے مسلمانوں کے ملی وجود کو ہر طرف سے چیلنج کرنا شروع کیا۔ مگر مسلمانوں نے اپنے ”دروازوں“ اور ”کھڑکیوں“ کو بند کر کے سمجھا کہ وہ طوفان کی زد سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے غیر جانبدارانہ طور پر مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم نے ، تو بحر ظلمات میں اپنے گھوڑے دوڑا دیئے ہیں اور آندھیوں سے کہہ دیا ہے کہ تم اپنا راستہ دوسری طرف تلاش کر لو۔ پھر یہ طوفان ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ مگر یہ خوش فہمیاں ہمارے کچھ کام نہ آئیں ۔ سیلاب اس طرح ہمارے ٹھکانوں میں گھسا کہ وہ آخری متاع تک بہا لے گیا۔ مسلمانوں کے لیے تعمیر نو کا آغاز یہ ہے کہ وہ کھلے دل سے اپنے پچھڑے پن کا اعتراف کریں، جب تک وہ اس کا اعتراف نہ کریں وہ اپنی منزل کی طرف کوئی حقیقی سفر شروع نہیں کرسکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page