گہرا کام
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
نے برطانیہ میں اپنی ایک زبردست تاریخ بنائی ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے اسے اپنی ذاتی عظمت سے دستبردار ہونا پڑا۔ چنانچہ فبیبین سوسائٹی کبھی برطانیہ کی عوامی تحریک نہ بن سکی۔ ۱۹۳۶ء کا زمانہ اس کے عروج کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے۔ مگر اس عروج کے زمانہ میں بھی فبیبین سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ وہ ہمیشہ "خواص" کی تحریک شمار کی جاتی رہی۔ اس طریقی کار کے بارہ میں اس کے اندر رائے کے اختلافات بھی ہوئے ۔ اس کے کچھ ممبروں نے اصرار کیا کہ تحریک کو عوامی انداز پر چلایا جائے ۔ مگر سوسائٹی کے رہنماؤں نے اس کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فبیبین سوسائٹی نے اپنی فکری سرگرمیوں کے ذریعہ برطانیہ کے ذہین طبقہ پر نہایت گہرا اثر ڈالا ۔ ملک کی عام آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اگرچہ ایک فی صد سے بھی کم تھی مگر یہ تمام لوگ اعلیٰ ذہنی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اگلے مرحلہ میں برطانیہ کی لیبر پارٹی میں شریک ہو گئے ۔ وہ لیبر پارٹی کا دماغ بن گئے ۔ چنانچہ ۱۹۴۵ء کے انتخابات میں لیبر پارٹی برطانیہ میں بر سر اقتدار آئی تو اس کے ممبران پارلیمنٹ کی نصف تعداد وہ تھی جو فبیبین سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ وزیر اعظم ایٹلی بھی اس کے ایک ممبر تھے۔ ۱۹۲۵ء سے پہلے برطانیہ میں سرونسٹن چرچل کی پارٹی بر سر اقتدار تھی۔ چرچل وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز تھے ۔ انھوں نے برطانی مقبوضات کو آزاد کرنے کا مطالبہ یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ : میں یہاں اس لیے نہیں ہوں کہ سلطنت برطانیہ کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کر دوں۔ مگر فبیبین سوسائٹی کے افراد کے زیر اثر لیبر پارٹی نے پورے معاملہ پر از سر نو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پندانہ انداز فکر نے انھیں بتایا کہ نو آبادیاتی مقبوضات کو آزاد کرنا برطانیہ کے لیے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ہے ۔ فبیبین دماغ کے تخت ہی برطانیہ کے لیے یہ ممکن ہوا کہ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان کو پر امن طور پر آزاد کر کے برصغیر میں اپنے مفادات کو از سر نو محفوظ کرلے۔ عوامی اشو کھڑا کر کے بھیڑ اکٹھا کرنا بہت آسان ہے۔ مگر اس قسم کی بھیڑ کبھی تاریخ نہیں بناتی۔ تاریخ بنانے کے لیے ہمیشہ اعلیٰ ذہن درکار ہوتے ہیں۔ اعلیٰ ذہن کو جمع کرنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ عوامی انداز کے ہنگاموں سے بچا جائے اور تحریک کو اول سے آخر تک سنجیدہ فکری انداز میں چلایا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader