بے خبری
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
اسمبلی میں اپنی اکثریت کے زور پر بدل دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتیں صرف اکثریت کے رحم و کرم پر ہوں گی : مولانا آزاد کے " تیس صفحات " میں جب میں نے یہ بات پڑھی تو مجھے قرآن کی ایک آیت یاد آگئی۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں : كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ (کتنے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آتے ہیں ، اللہ کے اذن سے ) میں نے سوچا کہ کیسے عجیب تھے وہ مسلم لیڈر جن کو نہرو کا بیان معلوم تھا مگر انھیں خدا کا بیان معلوم نہ تھا۔ انھیں اقلیت اور اکثریت کی یہ منطق معلوم تھی کہ دستور ساز اسمبلی میں تعداد کی کمی انھیں اکثریتی فرقے کے ماتحت بنا دے گی۔ مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ اس سیاسی منطق کے اوپر بھی ایک منطق ہے اور وہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ خود اکثریت کے اوپر اقلیت کو بالا کر دے ۔ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے ، اور اس کے حکم کے سامنے سر جھکا دے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader