بے خبری
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی حال میں ممکن نہیں۔ سماج کے اندر مختلف افراد اور گروہوں کے درمیان اختلاف کا پیش آنا عین فطری ہے، اس لئے اس کو کسی بھی طرح ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ اس کو انگیز کیا جائے۔ اعراض اور صبر کی تند پیروں سے اس کو اپنے لئے بے ضرر بنا دیا جائے۔ تقسیم (۱۹۳۷) سے پہلے کے دور میں جلوس پر جھگڑے کا ایک واقعہ بمبئی میں ہوا۔ ہندوؤں کا ایک جلوس باجا بجاتا ہوا ایک مسجد کے سامنے سے گزرا۔ اس پر مسجد کے مسلمان متولی نے اعتراض کیا۔ بات بڑھی۔ یہاں تک کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ متولی نے انگریز عدالت کے سامنے اپنا یہ دعویٰ پیش کیا کہ ہندوؤں کو اس کی مسجد کے سامنے سے جلوس نکالنے سے روک دیا جائے۔ مقدمہ چلا۔ بمبئی کے ایک مشہور مسلم رہنما نے اس کیس کی وکالت کی۔ ان کی وکالت کامیاب رہی۔ انگریز جج نے یہ فیصلہ دیا کہ مذکورہ مسجد کے سامنے عدالتی حکم کے تحت یہ بورڈ لگا دیا جائے کہ اس کے سامنے ہندوؤں کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں۔ مذکورہ مسلم رہنما اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان خوب مقبول ہوئے۔ ان کو مسلمان اپنا عظیم رہنما اور مسلم ملت کا نجات دہندہ سمجھنے لگے۔ مگر یہ صرف ناسمجھ تھی حقیقت یہ ہے کہ یہ قیادت نہیں تھی، بلکہ ہر عکس رہنمائی تھی۔ مذکورہ رہنما اگر دانش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ جلوس کے مسئلہ کا حل اس کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو برداشت کرنا ہے۔ اس قسم کی چیزیں ہر سماج میں جاری رہیں گی۔ حتیٰ کہ خالص مسلم سماج میں بھی۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جائے نہ کہ بے فائدہ طور پر ان سے الجھا جائے۔ ایک بچے نے پھول توڑا۔ اس کا ہاتھ کانٹے سے زخمی ہوگیا۔ وہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا۔ اب یہ باپ کی نادانی ہوگی اگر وہ پھول کے درخت سے کانٹے کا وجود ختم کرنے کی مہم چلائے۔ اس کے برعکس اس کو چاہئے کہ خدا اپنے بیٹے سے کہے کہ اس دنیا میں ہر پھول کے ساتھ کانٹا موجود رہے گا۔ اس لئے تم کانٹے کے ساتھ جینا سیکھو نہ یہ کہ کانٹے کا وجود مٹانے کی بے فائدہ کوشش کرو۔ بمبئی کے واقعہ میں مسلم قیادت اگر مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دیتی تو آج مسلمانوں کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سو سال سے جلوس کے جھگڑوں میں مبتلا ہیں، ہندوستان میں بھی اور اسی طرح پاکستان میں بھی۔ تعبیر کے بہترین امکانات کے درمیان وہ بے تعبیر حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader