Urdu book · تصویر ملت

بے خبری

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ جلوس کی روٹ بدلی جائے۔ شیعہ لوگ روٹ بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی جس میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ مقابل کی تصویر (ٹائمز آف انڈیا ۱۶ جولائی ۱۹۹۱) میں پولیس سنی فرقہ کے لوگوں پر لاٹھی چارج کر رہی ہے جو شیعہ جلوس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستان اس لئے بنایا گیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہوتے تھے۔ اس لئے مسلمانوں کے لیڈروں نے کہا کہ ہمیں ایک خطہ چاہئے جہاں سب مسلمان ہوں۔ تاکہ وہاں جھگڑے نہ ہوں اور ہم امن وسکون کے ساتھ رہ سکیں۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ مسلم لینڈ میں بھی وہی تمام جھگڑے جاری ہیں جو صرف ہندو لینڈ کی خصوصیت سمجھے جاتے تھے۔ اصل یہ ہے کہ جھگڑے کا تعلق ہند ولینڈ اور مسلم لینڈ سے نہیں۔ جھگڑے کا تعلق جھگڑا کرنے والوں کے مزاج سے ہے۔ اگر لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج ہو تو کہیں جھگڑا نہیں ہوگا۔ اور اگر تحمل کا مزاج نہ ہو تو ہر جگہ جھگڑا ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی جگہ کیوں نہ ہو۔ زندگی خلاف مزاج باتوں کو برداشت کرنے کا نام ہے۔ اس برداشت کے بغیر کہیں بھی امن وسکون کا ماحول نہیں بن سکتا۔ خاندان کے اندر بھی اس کی ضرورت ہے۔ بستی کے اندر بھی اور پورے ملک کے اندر بھی۔ ایک فرقہ کے سماج میں بھی اسی سے امن قائم ہوسکتا ہے اور کئی فرقہ کے سماج میں بھی۔ جہاں بھی کچھ انسان مل کر رہیں، خواہ وہ ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذہب اور کلچر کے۔ وہاں لازماً ایک دوسرے کے درمیان ٹکراؤ کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان مواقع کی پیدائش کو بند نہیں کیا جاسکتا، البتہ ان کو نقصان کی حد تک جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ جب ٹکراؤ کی نوبت آئے تو اس کو حسن تدبیر سے دفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ اعراض اور صبر کے ذریعہ اس کو اس کے ابتدائی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ اس کے سوا جو بھی صورتیں ہیں وہ سب مسئلہ کو بڑھانے کی صورتیں ہیں نہ کہ مسئلہ کو گھٹانے کی صورتیں۔ جو چیز غیر فطری ہو اس کو آپ کوشش کرکے ختم کر سکتے ہیں۔ مگر ایک فطری چیز کو ختم کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page