ایک تقاضا
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تقاضا مولانا شبلی نعمانی (م ۱۹۱۴ء - ۱۸۵۷ء) نے جدید اسلامی تعلیم کی تحریک اٹھائی۔ انھوں نے اس زور وشور کے ساتھ اس کی آواز بلند کی کہ ہر طرف اس کا چرچا شروع ہو گیا۔ اس وقت جدت پسند طبقہ نے یہ اعتراض کیا کہ اسلامی تعلیم مسلم نوجوانوں کو پیچھے لے جائے گی۔ کیوں کہ اسلام علم کا مخالف ہے۔ اس کی مثال یہ دی گئی کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں اسکندریہ (مصر) فتح ہوا۔ اس وقت وہاں ایک بہت بڑا یونانی کتب خانہ تھا جو بطلیموس کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا۔ مگر یہ مسلمان علم کے اتنے ناقدر شناس تھے کہ انھوں نے اس کتب خانہ کو جلا کر خاک کر دیا ۔ دنیا گزشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہو گئی۔ اس وقت مولانا شبلی نے اس مسئلہ کی زبر دست تحقیق شروع کی اور پھر اس موضوع پر ایک محققانہ مقالہ شائع کیا۔ اس مقالہ میں انھوں نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ مذکورہ کتب خانہ اسلامی فتح سے بہت پہلے برباد ہو چکا تھا۔ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں اس کا کوئی نشان تک باقی نہیں رہ گیا تھا ۔ مولانا شبلی نے تاریخی حقائق کے ذریعہ ثابت کیا کہ اسکندریہ کا کتب خانہ عیسائیوں نے اپنے زمانہ میں برباد کیا تھا۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری کے ایک عیسائی مورخ ابو الفرح ملطی نے یہ کہا کہ عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے اس واقعہ کو غلط طور پر مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا۔ مولانا شبلی کی یہ بات اتنی مدلل تھی کہ بعد کو خود یورپی محققین نے اس کی تائید کی۔ اس مثال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا شبلی نے جو مہم اٹھائی وہ پوری طرح اس کے اہل (Competent) تھے ۔ انھوں نے جس طرح جدید اسلامی تعلیم کا علم بلند کیا اسی طرح وقت کی طرف سے پیش آنے والے سوالات کا اعلیٰ ترین علمی اور عقلی سطح پر جواب بھی دیا۔ اس کے برعکس مثال ان لوگوں کی ہے جو موجودہ زمانہ میں ”تحفظ شریعت“ کی تحریک لے کر اٹھے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اس عظیم تحریک کا اہل ثابت نہ کر سکے۔ انھوں نے مداخلت فی الدین کا نعرہ تو بہت لگایا۔ مگر اس جدید ذہنی تقاضا کو پورا نہ کر سکے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader