ایک تقاضا
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی قانون کو اعلیٰ علمی سطح پر مدلل کر کے پیش کر دیں ۔ ۸۶ - ۱۹۸۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اسلامی شریعت کا سال تھا۔ محمد احمد - شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ محمد احمد اپنی مطلقہ بیوی کو ماہانہ ۱۸۰ روپیہ گذارہ ادا کریں ۔ یہ فیصلہ اسلامی شریعت کے خلاف تھا ۔ چنانچہ ہندوستانی مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔ ہر طرف مداخلت فی الدین کے نعرے لگنے لگے ۔ جلسہ اور جلوس کی سیاست نے اتنا ترقی کی کہ لوگوں کے خیال کے مطابق خلافت تحریک کے بعد اس قسم کی مثال نہیں دیکھی گئی ۔ بالآخر ہندوستانی مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ۔ مئی ۱۹۸۶ میں مطلقہ مسلم خواتین کے بارے میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کر دیا ۔ مگر یہ فتح اپنے ساتھ ایک عظیم شکست بھی لے آئی ہے ۔ مسلمانوں نے اپنی پرشور تحریک تمام تر صرف مداخلت فی الدین اور تحفظ شریعت کے نام پر چلائی ۔ ان کے اصاغر و اکابر میں سے کوئی بھی شخص یہ کام نہ کر سکا کہ مضبوط دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرتا کہ اسلام کا قانون ہی درست اور مفید ترین قانون ہے ۔ آج کا انسان ہر چیز کو عقل پر پرکھتا ہے ۔ اب چوں کہ مسلمان اعلیٰ عقلی معیار پر شرعی قانون کو مدلل نہ کر سکے اس لیے ظاہری فتح کے باوجود ایسا نہ ہو سکا کہ لوگوں کے ذہن پر اسلامی قانون کی عظمت قائم ہوتی ۔ مسلمانوں کی ہنگامہ خیز تحریک کا یہ نتیجہ ہوا کہ اسلام کا نکاح و طلاق کا قانون سارے ملک میں زیر بحث آگیا ۔ ہر اخبار ورسالہ اس کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگا ۔ ہر جگہ اس پر بحث ہونے لگی ۔ اب ایک طرف ہمارے علما رتھے جو اصرار کر رہے تھے کہ شریعت کے مطابق مطلقہ عورت کو نفقہ نہیں دیا جا سکتا ۔ دوسری طرف مسلمانوں کا جدید طبقہ اور غیر مسلم حضرات تھے جو ہندوستان کے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کی حمایت کر رہے تھے جس کے مطابق مطلقہ عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے ۵۰۰ روپیہ ماہانہ کی حد تک گزارہ وصول کر سکتی ہے ۔ اسلام کا قانون بلاشبہ انتہائی معقول اور بہتر قانون ہے ۔ مگر ہمارے علما ر اس کی معقولیت کو جدید دلائل کے ساتھ ثابت نہ بنا سکے ۔ وہ صرف مداخلت فی الدین کے نام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader