Urdu book · تصویر ملت

نیا دور

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

مکا موقع لایا۔ مسلمانوں ہند کے تحفظ کے سلسلہ میں ان لوگوں کی خدمات بلاشبہ قابل قدر ہیں مگر ان حضرات نے بھی نئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو کوئی واضح اور مثبت رہنما ئی نہ دی۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ مثال کے طور پر، ۱۴۱۴ سے پہلے مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا حافظ الرحمن سیوہاروی، سب کے سب یہ کہتے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ اس لیے اس ملک کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک قوم ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ، ۱۹۴۷ کے بعد اس معاملہ میں یہ سب حضرات بالکل خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کبھی یہ مہم نہیں چلائی کہ مسلمانوں میں علیحدگی پسندی کا ذہن ختم کریں اور ان کے اندر ہندوستانی قومیت کا ذہن بنائیں۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے سب سے زیادہ ضروری کام یہی تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ہندوستانی مسلمانوں کو سوچ کا ایک رخ مل جاتا، اور ان کے لیے ممکن ہو جاتا کہ وہ حالات سے موافقت کر کے اس ملک میں اپنی زندگی کی تعمیر کر سکیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد اور ان کے ہم خیال دوسرے رہنماؤں کی اس غیر فعالیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ کے بعد کے انڈیا میں بھی مسلمانوں کے اندر وہی سوچ جاری رہی جو، ۱۹۴۷ سے پہلے کے انڈیا میں انھیں مسٹر جناح نے دی تھی۔ ۱۹۴۷ کے بعد اٹھنے والے نئے لیڈروں میں بھی کوئی اس صلاحیت کا نہ تھا کہ وہ مسٹر جناح اور ان کے ہم نوا ڈاکٹر اقبال کے فکری غلبہ کو توڑ سکے۔ چنانچہ بعد کا دور عملی طور پر پچھلی قیادت کی توصیع بن گیا جو آج تک جاری ہے۔ مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ سکھایا تھا۔ مسلمانوں کا پورا ذہن اس فکر کے تحت بنا تھا کہ ہندو الگ قوم ہیں اور مسلمان الگ قوم۔ اس فکر نے مسلمانوں کو جو طریقہ دیا وہ دوری اور ٹکراؤ کا طریقہ تھا۔ وہ احتجاج اور مطالبات پر مبنی تھا۔ وہ حقوق طلبی کی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتا تھا۔ وہ یہ تھا کہ مسائل کو نمایاں کیا جائے اور مواقع کو غیر مذکور چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ، ۱۹۴۷ کے بعد کا پورا دور اسی سابقہ فکری راستہ پر چل پڑا۔ مسٹر جناح نے چودہ پوائنٹ پر مشتمل مطالبات پیش کیے تھے۔ نئی لیڈر شپ نے بیس پوائنٹ پر مشتمل اپنے مطالبات پیش کر دیے۔ مسٹر جناح نے علیحدہ قومیت کی بات کی تھی، نئی قیادت نے علیحدہ تشخص کی بات شروع کر دی، مسٹر جناح نے مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار ہندو کو بتایا تھا۔ نئے لیڈروں نے اکثریتی فرقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page