Urdu book · تصویر ملت

نیا دور

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

کی حکومت کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار بتانے پر اپنی ساری طاقت خرچ کر دی۔ مسٹر جناح کے مسلمانوں میں زرد صحافت کو رواج دیا تھا۔ وہ مزید شدت کے ساتھ بعد کے دور میں بھی جاری رہی۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی کے نتیجہ میں مسلمانوں نے انتہائی غلط طور پر ہندوؤں کو غیر قوم سمجھ لیا تھا، ۱۹۴۷ء کے بعد رہ نمائی کے خلا کی بنا پر مسلمان دوبارہ ہندوؤں کو غیر قوم ہی سمجھتے رہے۔ مسٹر جناح کی غلط رہ نمائی نے مسلمانوں کا یہ ذہن بنایا تھا کہ مشترک ہندوستان ان کا وطن نہیں بن سکتا، یہی ذہن بعد کو بھی مسلمانوں میں کم و بیش باقی رہا۔ وہ اب بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے رہے کہ ہندوستان ان کا اصلی وطن نہیں ہے۔ اس طرح مسلمان ذہنی طور پر خود اپنے وطن میں بے وطن بن کر رہ گئے۔ میرے نزدیک، موجودہ مسلم قیادت، بے ریش اور باریش دونوں، تقریبا بلا استثناء، مسٹر جناح کے قیادتی انداز کی توسیع ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ہر ایک بنیادی طور پر وہی بات کہہ رہا ہے جو مسٹر جناح نے اور ان کے فکری ہم نوا ڈاکٹر اقبال نے کہی تھی۔ دونوں کے درمیان الفاظ کا فرق ہو سکتا ہے، مگر ان میں حقیقت کا کوئی فرق نہیں۔ اور ہندو بھی گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ہندو بھی عملاً مسٹر جناح کے راستہ پر چل پڑے ۔ ۱۹۴۷ء کے بعد وہ بھی مسٹر جناح کے فکری پیرو بن گئے ۔ انھوں نے بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر مسٹر جناح کے زیر تاثیر یہ سمجھ لیا کہ انڈیا میں دو قومیں بستی ہیں۔ ایک ہندو، اور دوسرے مسلمان۔ یہی وہ چیز ہے جو ہند و مسلم تعلقات کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ انڈیا میں مسلمان ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے آباد ہیں۔ ان کی تعداد پہلے تھوڑی تھی اب بڑھتے بڑھتے تقریبا پندرہ کروڑ ہو چکی ہے۔ یہ مسلمان کون لوگ ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پہلے ہندو تھے ۔ بعد کو انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ گویا کہ یہ مسلمان بھی نسلی اعتبار سے اسی طرح انڈین ہیں جس طرح دوسرے ہندو انڈین ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے بجاطور پر لکھا ہے کہ پچھلے ہزار سال کے دوران ہندوؤں میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ صرف ہندو لوگ انڈین ہیں ، مسلمان انڈین نہیں ہیں۔ ہند وعقیدہ یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page