نیا دور
Urdu book, p. 262
By Maulana Wahiduddin Khan
سچی ہر مذہب میں پائی جاتی ہے ۔ اس لیے جب کوئی ہند و اسلام قبول کر لیتا تو وہ اپنے عقیدہ کے مطابق ، یہ سمجھتے تھے کہ وہ سچائی کے ایک حلقہ سے نکل کر سچائی کے دوسرے حلقہ میں چلا گیا ہے ۔ اور چونکہ نسلی اعتبار سے وہ ان کی اپنی نسل ہی سے تعلق رکھتا تھا اس لیے وہ ان کے انڈین ہونے پر بھی کوئی شک نہیں کرتے تھے ( ڈسکوری آف انڈیا ۸۱ ۔ ۲۸۰) مغل دور میں بیشتر راجاؤں نے مغلوں کا ساتھ دیا۔ شیواجی نے اور نگ زیب کے خلاف بغاوت کی ۔ مگر اس کا تعلق کچھ بھی اس بات سے نہیں تھا کہ اورنگ زیب مسلمان ہے۔ شیواجی کو اورنگ زیب کی صرف بعض پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ چنانچہ جے پور کے راجہ کے نام ایک خط میں شیواجی نے لکھا تھا کہ دہلی کے تخت پر اگر اورنگ زیب کے بجائے دارا شکوہ ہوتا تو وہ ہرگز اس کے خلاف لڑائی نہ لڑتے ۔ وہ اس کی ماتحتی قبول کر لیتے ۔ ۴۰ ۱۹ سے انڈیا کی تاریخ میں ایک نیا دور آتا ہے جب کہ مسٹر محمد علی جناح نے دو قومی نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومیت کا تعلق وطن سے نہیں ہے بلکہ مذہب سے ہے ۔ اور چونکہ مسلمانوں کا اور ہندوؤں کا مذہب الگ الگ ہے اس لیے دونوں الگ الگ قوم ہیں۔ انھوں نے اپنے اسی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر برصغیر ہند میں دو الگ الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ مسٹر محمد علی جناح کے اس فکر کے رد عمل میں پہلی بار ہندوؤں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مسلمان الگ قوم ہیں اور ہندو الگ قوم ہیں ۔ انتہا پسند ہندو اب مسلمانوں کی وطنی وفاداری پر شک کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان غیر ملکی ہیں۔ یہ خیال پختہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پاکستان جیسے مسلم ملک کے مقابلہ میں بریگیڈیئر عثمان اور حوالدار عبد الحمید کی غیر معمولی قربانیاں بھی اس فکر کا خاتمہ نہ کر سکیں مسٹر جناح کے رد عمل میں پیدا ہونے والا فکر کسی جوابی فکر سے ٹوٹ سکتا تھا۔ چونکہ ۴۰ ۱۹ کے بعد کوئی ایسی طاقتور فکری تحریک برپا نہیں ہوئی اس لیے یہ فکر بھی لوگوں کے ذہنوں سے محو نہ ہو سکا۔ انڈیا کے لوگ ہمیشہ سے یہ مانتے آ رہے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ جو لوگ ایک وطن میں ہوں وہ سب ایک قوم ہیں۔ مگر مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ سے متاثر ہو کر یہاں کے ہندو یہ سمجھنے لگے کہ چونکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب الگ الگ ہے، اس لیے دونوں الگ الگ قوم ہیں ۔ انڈیا کا ہند و مسلم مسئلہ پچاس فی صد اس لیے ہے کہ ۴۷ ۱۹ کے انقلاب کے بعد بھی یہاں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader