Urdu book · تصویر ملت

پچھلے انبیاء

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلے انبیاء عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ و قال حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قَدِمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے۔ آپ نے یہود کو فرأى اليهود تصوم عاشوراء۔ فقال لهم دیکھا کہ وہ عاشورار کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ما هذا اليوم الذي تصومونه ۔ قالوا هذا يوم ان سے کہا کہ یہ کیسا دن ہے جس میں تم لوگ روزہ رکھتے عظيم ۔ انجی الله فيه موسى وقومه وغرق ہو ۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا دن ہے ۔ اس دن فيه عدوهم فصامه موسى شكراً فنحن اللہ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی اور آپ کے نصومه فقال رسول الله صلى الله علیه دشمن (فرعون) کو پانی میں ڈبو دیا۔ اس کے بعد موسیٰ نے وسلم : اس دن شکر کے طور پر روزہ رکھا۔ پس ہم بھی اس دن فنحن احق واولى بموسى منكم فصامده کا روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسول الله صلّی الله علیه وسلم وا مر کہ ہم تم سے زیادہ موسیٰ کے حق دار ہیں اور قریب ہیں بصيامه ( بخاری، مسلم، ابو دائود) چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کے لئے کہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کا ثابت شدہ عمل مسلمانوں کے لئے بھی اسی طرح قابل تقلید ہے۔ جس طرح وہ ان پیغمبروں کی اپنی امتوں کے لئے قابل تقلید تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر میں مبعوث ہوتے تو وہاں دو قسم کے گروہ پائے جاتے تھے۔ ایک فرعون کی قوم جو قبطی کہی جاتی تھی۔ دوسری بنی اسرائیل کی قوم جو گویا قدیم زمانہ کے مسلمان تھے۔ یہ دونوں گروہ ہدایت سے دور تھے۔ فرعون کی قوم اگر کفر و شرک میں مبتلا تھی تو بنی اسرائیل ہر قسم کے دینی بگاڑ کا شکار تھے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل میں پیدا ہوتے۔ آپ کو بنی اسرائیل کی اصلاح کمر ناتھا۔ مگر بنی اسرائیل کی اصلاح کے انتظار میں آپ نے قوم فرعون پر دعوت حق کا کام موقوف نہیں کیا۔ آپ نے بیک وقت دونوں کام شروع کئے۔ گویا یہ طریقہ غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے کہ مسلمانوں کے بگاڑ کو عذر بنا کر غیر مسلموں میں دعوت کا کام نہ کیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page