پچھلے انبیاء
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمال ورق کہ سینہ گذشتہ مدعایں جا است قرآن کو خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کی دعوت کا اصل نکتہ آخرت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو بڑے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں، ان میں سے کسی تحریک نے بھی انذار آخرت ، کو اپنی دعوت کا بنیادی نکتہ نہیں بنایا۔ روایتی طور پر بلا شبہ ہر تحریک میں آخرت کا لفظ شامل رہا۔ مگر ایسا کسی تحریک میں نظر نہیں آتا کہ اس نے آخرت کے انتباہ کو اپنا نصب العین قرار دیا ہو اور یہی فکر اس کی تمام سرگرمیوں پر چھایا ہوا ہو۔ ۱۹۶۰ میں ایک بڑی اسلامی جماعت کا سالانہ اجتماع ہوا۔ اس موقع پر جماعت کے ذمہ دار اعلیٰ نے جو صدارتی تقریر کی ، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا تھا : ایک جلسہ عام کے موقع پر اسلامی تحریک کا تعارف کرنے کے لئے آپ خطبہ صدارت تیار کرتے ہیں جس میں شروع میں بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے تین نکات ہیں ـــــ خدا ، آخرت ، رسالت ۔ مگر اس کے بعد دنیا میں جو کچھ بگاڑ پایا جاتا ہے اس کا حقیقی سبب ان بنیادی باتوں سے انحراف ہے “ کے فقرہ سے جو گریز شروع ہوتا ہے تو چالیس صفحات کا کا پورا خطبہ مسائل ملکی کی نذر ہو جاتا ہے اور کہیں بھی یہ بتانے کی نوبت نہیں آتی کہ مرنے کے بعد بھی تمھارا کوئی مسئلہ ہے جس سے تمھیں ڈرنا چاہئے۔ البتہ تقریر ختم ہونے لگتی ہے تو پھر روایتی ذہن مجبور کرتا ہے کہ اس قسم کا ایک فقرہ رکھ دیا جائے ــــ ” مومن کا اول و آخر مقصد رضائے الہی اور روز آخرت ہے “ آپ کے اس طویل لفظی مجموعہ پر بے شک میں کوئی منطقی اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کو اسلام کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ مگر پوری تقریر پڑھ کر ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ داعی کس بات سے لوگوں کو ڈرانا چاہتا ہے اور اس کے اوپر کیا چیز سوار ہے۔ ملک کے لسانی جھگڑے اور معاشی قضیے اس کو نظر آتے ہیں۔ یا وہ دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہو اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کر دیں۔ (تعمیر کی غلطی، مطبوعہ ۱۹۶۳ء، صفحہ ۲۰۴) اسی کمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلامی تحریکوں کی کثرت کے باوجود دہ آزاد نہیں پیدا ہو رہے ہیں جو اسلام کا اصل مقصد ہیں۔ آج اسلام کے جھنڈے ہر طرف لہرارہے ہیں ، لاؤڈ اسپیکر پر اسلامی الفاظ کا غلغلہ بلند ہے۔ اسلام کے نام پر سارے عالم میں آمد و رفت کا طوفان جاری ہے اسلامی جلسوں اور اسلامی کانفرنسوں کے شور سے زمین کی فضائیں معمور ہو رہی ہیں۔ پھر بھی مسلمان مغلوب ہیں۔ اس کے بعد جو داسلام کا احیا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے ، اسلام کا غلبہ اسلام کے الفاظ بولنے سے نہیں ہوتا بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ پیدا ہو جائیں ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کا تمام ہنگاموں کے باوجود کہیں پتہ نہیں۔ خدا کی بھری ہوئی زمین میں وہ انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا جو خدا کے خوف سے کانپتا ہو، خدا کے تصور سے جس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہوں جس نے خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے کو پست کر رکھا ہو۔ قیامت کے اندیشہ نے جس کی نیند ارا رکھی ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے لوگ ظاہری زندگی کی سطح پر جی رہے ہیں۔ آخرت کی سطح پر جینے والے اتنے نایاب ہیں کہ شاید اب ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ مکان کے چرچے ہوں مگر اینٹ موجود نہ ہو تو مکان کس طرح بن جائے گا (۱۰ مارچ ۱۹۷۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader