Urdu book · تصویر ملت

ایک تبصرہ

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بھیٹر پروفیسر ہنری جیکسن (Henry F. Jackson) کا ایک مضمون امریکی جنرل خارجہ پالیسی (Foreign Policy) میں چھپا ہے۔ پروفیسر جیکسن نے مصر کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مصر میں قابلِ زراعت زمین تقریباً چھ ملین ایکڑ ہے۔ اس میں سے تقریباً ساٹھ ہزار ایکڑ زمین اینٹ بنانے اور پکانے والوں کے مصرف میں آکر زراعت کے لئے بے کار ہوگئی ہے۔ اسوان ڈیم کے ناکارہ ہو جانے کی وجہ سے زمین کا کٹاؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس قسم کی مختلف چیزوں کے نتیجہ میں ملک میں تقریباً ۲۵ فی صد قابلِ کار آدمی بے کار ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے مصر کو اربوں ڈالر بطورِ امداد دئے ہیں مگر یہ امداد عملاً پانچ فی صد اوپر کے طبقات (فوج ، بینکر ، تاجر، ٹھیکیدار، عہدہ دار) کے حصہ میں چلی گئی ہے۔ کسان گھرانے کے لوگ مقامی طور پر ذرائع معاش نا پا کر بڑی تعداد میں شہروں میں منتقل ہورہے ہیں ۔ وغیرہ اس جائزہ کے بعد پروفیسر جیکسن لکھتے ہیں : ایسی حالت میں تعجب کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلامی احیار میں پناہ تلاش کر رہے ہیں، یہ ان کے لئے حکومت کی ناکام اقتصادی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی ایک صورت ہے : Is it any wonder then that more people are seeking escape in Islamic revivalism as a form of protest against the government’s unsuccessful economic policies? The Times of India, September 8, 1981 ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وقت کے حکراں کے بارہ میں مختلف وجوہ سے لوگوں کے اندر ناراضی اور عدم اطمینان موجود رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جب حکراں کو ہٹانے کے نام پر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اس قسم کے تمام ناراض عناصر اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام تر ایک مصنوعی پھیلاؤ ہوتا ہے۔ یہ اجتماع "بغضِ معاویہ" کے جذبہ کے تحت ہوتا ہے نہ کہ "حب علی" کے جذبہ کے تحت ۔ مگر تحریک کے قائدین خوش فہمی میں سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سارے لوگ اسلام کے لئے سرشار ہیں، وہ خالص اسلام کو قائم کرنے کی خاطر اپنے گھروں سے نکل پڑے ہیں۔ خوش خیالی کا یہ گھروندہ اس وقت بکھر جاتا ہے جب کہ "اسلام دشمن" حکراں کو ہٹانے کی تحریک کامیاب ہو جائے ۔ اسلام دشمن حکراں کے ہٹتے ہی اسلام دوست حضرات آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو جس چیز نے اکٹھا کیا تھا وہ صرف ایک منفی نشانہ تھا اور اسلام دشمن حکراں کے ہٹنے کے بعد وہ نشانہ باقی نہ رہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page