ایک تبصرہ
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تبصرہ مسٹر دلپ ہیرو مسلم دنیا کے معاملات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب ۱۹۸۸ میں لندن سے چھپی ہے، اس کا نام اسلامی بنیاد پرستی ہے : Dilip Hiro, Islamic Fundamentalism اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے اسلامی بنیاد پرستوں کو شکست اور اس سے بھی زیادہ بری چیز ذلت ، دونوں سے سخت طور پر دوچار ہونا پڑا۔ ان کا معاملہ صرف اتنا نہیں ہے کہ وہ اپنے پیغمبر محمد کی طرف لوٹ رہے ہیں اور اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کو متعین کر کے اس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی موجودہ سرگرمی شدید طور پر مغرب کے خلاف رد عمل اور ہراس چیز سے نفرت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جس کا تعلق مغرب سے ہو : Having experienced both defeat and, worse, contempt, the Islamic Fundamentalists of today seek to do more than just follow their ances- tor Muhammad and define the fundamentals of a religious system and adhere to them. Their drive today is explosively fuelled by a reaction- ary hatred of all that is Western. موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والی وہ تحریکیں جن کو مغربی پریس اسلامی فنڈمنٹلزم کہتا ہے ، اور خود مسلمان جس کو صحوۃ اسلامیہ (اسلامی بیداری) کہنا پسند کرتے ہیں، ان کی اصل حقیقت یہی ہے کہ وہ رد عمل اور نفرت کے طور پر اٹھی ہیں۔ وہ قومی تحریکیں ہیں نہ کہ اسلامی تحریکیں ۔ اسلامی تحریک محبت اقوام کی زمین پر ابھرتی ہے۔ جب کہ یہ تحریکیں نفرت اقوام کی زمین پر ابھری ہیں۔ آپ ان تحریکوں کا کوئی پرچہ پڑھیں ، یا ان کے کسی اجتماع میں شریک ہوں۔ آپ کو ان میں دوسروں کے لیے خیر خواہی اور شفقت کی خوشبو نہیں ملے گی۔ اس کے برعکس آپ پائیں گے کہ وہ شکایت اور احتجاج جیسی باتوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ یہی واقعہ مذکورہ بیان کی تصدیق کے لیے کافی ہے ۔ بظاہر یہ تبصرہ بہت تلخ ہے ، لیکن اگر خالی الذہن ہو کر دیکھا جائے تو وہ عین درست نظر آئے گا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader