غلط تعارف
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط تعارف قرآن کی تعلیمات پر ہمارے ادارہ کی ایک انگریزی کتاب دارالسلطنت کے ایک انگریزی پریس میں چھپ رہی تھی۔ ہمارا آدمی ایک بار پریس گیا تو اس کے غیر مسلم مشین مین نے پوچھا: یہ کیسی کتاب ہے۔ آدمی نے بتایا کہ یہ قرآنی تعلیمات کے بارہ میں ہے۔ مشین مین نے دوبارہ کہا: پھر تو یہ مارکاٹ سکھانے والی کتاب ہوگی۔ کیوں کہ تمھارے قرآن میں یہی سب چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔ ایک مسلمان بزرگ نے اس واقعہ کو سنا تو فرمایا کہ یہ مس انڈرسٹینڈنگ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مس انڈرسٹینڈنگ نہیں بلکہ پراپر انڈرسٹینڈنگ ہے۔ قرآن بلاشبہ مارکاٹ کی کتاب نہیں مگر ہم نے اپنے قول و عمل سے دنیا کے سامنے جس اسلام کا تعارف کرایا ہے وہ یہی ہے۔ اگر ایک غیر مسلم اسلام کے بارہ میں کتاب لکھے اور اس کا نام خنجر اسلام (Dagger of Islam) رکھ دے تو مسلمان فوراً بگڑ جاتے ہیں۔ مگر خود ان کے مشہور ترین اسلامی مفکر کا حال یہ ہے کہ وہ فخر کے ساتھ کہتا ہے؛ تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا ایسی حالت میں دوسرے لوگ کیا کریں۔ کیا وہ آپ کے الفاظ کو بدل کر اس طرح لکھ لیں: پھولوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں پھولوں کا گلستاں ہے قومی نشاں ہمارا مسلمانوں میں جب بگاڑ آتا ہے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ان کے اندر احساس فخر باقی رہتا ہے اور احساس ذمہ داری ان سے نکل جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ انھیں حق ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ مگر دوسروں کو ان پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ ہر خوبی کا مستحق اپنے کو سمجھ لیتے ہیں اور ہر خرابی کا مستحق دوسروں کو۔ موجودہ زمانہ میں ایران اور پاکستان اپنے کو اسلام کا سب سے بڑا علم بردار بتاتے ہیں۔ ہمارے قائدین میں ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ”پاکستان اسلام کا قلعہ ہے“ اور ”ایران کا انقلاب خالص اسلامی انقلاب ہے“ مگر ان ملکوں میں اسلام کا جو سب سے بڑا عملی نمونہ دکھایا گیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگوں کو مارو، انھیں کوڑے لگاؤ، ان سے ان کی آزادیاں چھین لو، مفروضہ دشمنوں کے خلاف لامتناہی جنگ جاری رکھو۔ پھر دوسرے لوگوں سے آپ کیا امید رکھتے ہیں۔ کیا وہ ایسا کریں کہ اسلامی ملکوں سے آنے والی خبروں کو جب وہ پڑھیں تو اپنے ذہن میں اس کے معنی بدلی لیا کریں۔ وہ گولی کو پھول کے معنی میں لے لیں اور کوڑے کو مصافحہ کرنے کے معنی میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader