Urdu book · تصویر ملت

دوسرا قرآن

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرا قرآن ایک مسلمان نے اپنے ایک غیر مسلم دوست کو قرآن کا ترجمہ پڑھنے کے لئے دیا۔ غیر مسلم نے بڑے شوق اور احترام کے ساتھ قرآن کو لیا اور اس کو شروع سے آخر تک پڑھ ڈالا۔ اگلی ملاقات میں اس نے قرآن کا مذکورہ نسخہ واپس کرتے ہوئے کہا: " اب دوسرا قرآن دیجیئے" مسلمان نے سمجھا کہ وہ قرآن کا دوسرا نسخہ مانگ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دوسرا نسخہ لائے اور اس کو مذکورہ غیر مسلم کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ غیر مسلم نے اس کو لے کر کچھ دیر الٹ پلٹ کر دیکھا۔ پھر کہا" یہ تو وہی قرآن ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اب وہ قرآن دیجیئے جس پر آپ لوگ عمل کرتے ہیں۔" غیر مسلم نے قرآن میں جو اسلام پڑھا وہ اس سے مختلف تھا جو اس نے مسلمانوں کی اپنی زندگی میں دیکھا تھا۔ غیر مسلم نے سمجھا کہ مسلمانوں کے یہاں شاید دو قرآن ہے۔ ایک وہ جس کو اس نے ابھی پڑھا ہے، دوسرا وہ جو ابھی اس کو پڑھنے کو نہیں ملا۔ بظاہر یہ ایک لطیفہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر امر واقعہ یہی ہے کہ مسلمانوں کا دو قرآن ہے۔ ایک وہ جو خدا کی طرف سے چودہ سو سال پہلے اترا تھا۔ دوسرا وہ جو انہوں نے خود لکھ رکھا ہے۔ اس دوسرے قرآن کا نام قرآن نہیں۔ اس کا نام قرآن کی تشریح و تعبیر ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تشریح و تعبیر سے قرآن کے متوازی ایک اور قرآن لکھ رکھا ہے۔ اس دوسرے قرآن میں وہ سب کچھ ہے جس پر آج وہ عمل کر رہے ہیں۔ قرآن میں اسلام اطاعت کا نام ہے مگر مسلمانوں کی اپنی تشریح میں اسلام فخر کی چیز بن گیا ہے۔ قرآن کے مطابق نجات کا دارو مدار عمل پر ہے مگر مسلمانوں کی تشریح کے مطابق نجات کے لئے یہ کافی ہے کہ آدمی اپنے کو مسلمان کہتا ہو۔ قرآن کا اسلام یہ ہے کہ آدمی اپنا احتساب کرے مگر مسلمانوں کی تشریح کے خانے میں اسلام اس کا نام ہو گیا ہے کہ آدمی احتساب عالم کا جھنڈا اٹھائے ہوتے ہو۔ قرآن کا اسلام سارے عالم کا اسلام ہے۔ مگر مسلمانوں کے ذہنی خانہ میں وہ ایک قومی چیز بن کر رہ گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page