Urdu book · تصویر ملت

عجیب محرومی

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب محرومی و اتل عليهم نبأ الذی آتيناه آياتنا اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال سناؤ جس ہم نے فانسلخ منها فاتبعه الشيطان فکان اپنی نشانیاں دیں ، پھر وہ ان سے نکل بھاگا من الغاوین ولوشئنا لرفعناه بها پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا ، پس وہ گمراہ ولكنه اخلد الی الارض واتبع هواه لوگوں میں سے ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو (الاعراف ۱۷۶ - ۱۷۵) ان نشانیوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے ۔ مگر وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ ہدایت کے راستہ پر چلنا برتر مقصد پر چلنا ہے ۔ مگر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ پست مقاصد میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ اس سے اٹھ کر برتر مقصد کا ساتھ نہیں دے پاتے۔ وہ وقتی فائدہ کی خاطر ابدی فائدے کو کھودیتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو ایک نئی تاریخ بنانا مطلوب تھا ۔ آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ شرک کے دور کو ختم کیا جائے اور توحید کو ہمیشہ کے لیے ایک غالب فکر بنا دیا جائے ۔ اس خدائی منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لیے بلاشبہ قربانی درکار تھی۔ قربانی کا یہ سوال بہت سے لوگوں کے لیے اس کا ساتھ دینے میں رکاوٹ بن گیا۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ابتداً اس میں شامل ہوئے مگر بعد کو جب ان کے سامنے وہ وقت آیا کہ وہ اپنی خواہشوں کے تقاضے کو ذبح کریں اور اپنی انا کے بُت کو توڑ کر اس کا ساتھ دیں تو وہ ایسا نہ کر سکے۔ وہ اپنی ذات کو بچانے کی خاطر خدا کے دین سے دور ہوگئے۔ یہی صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آئی اور یہی صورت ہر زمانہ میں پیش آتی ہے۔ کیسا عجیب ہے انسان۔ خدا اس کے سامنے واضح دلائل لے آتا ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ خدا اس کے لیے بلندیوں کی طرف جانے کا راستہ کھولتا ہے مگر اس کے محدود مفادات اس کو آگے بڑھنے نہیں دیتے ۔ خدا اس کو تاریخ ساز بنانا چاہتا ہے مگر وہ خود ساز بن کر رہ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page