عجیب غفلت
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
عجیب غفلت مولانا شبلی نعمانی (۱۸۵۷ء-۱۹۱۴) نے اپنے زمانہ میں ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا "ندوة العلما کیا کر رہا ہے"۔ اس مضمون میں انھوں نے کلکتہ کے اخبار حبل المتین (۱۰ اگست ۱۹۰۴) کا ایک اقتباس درج کیا تھا۔ یہ اقتباس "تاریخ ندوۃ العلما" حصہ اول میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد اسحاق جلیس ندوی مرحوم نے مرتب کی تھی۔ مولانا شبلی کا اقتباس بعض ضروری اضافہ کے ساتھ حسب ذیل ہے : "جس زمانہ میں روسی قوم بت پرست تھی، شہنشاہ روس ولادی میر (Vladimir) نے (مذاہب کی تحقیق کے لئے) ایک جلسہ طلب کیا تھا جس میں علما اسلام کو بھی بلایا تھا۔ جو صاحب اس غرض کے لئے قازان سے تشریف لائے تھے انہوں نے اسلام کے تمام عقائد اور فلسفہ میں سے صرف یہ مسئلہ منتخب کر کے پیش کیا کہ (اسلام میں) سور کا گوشت کھانا بالکل حرام ہے۔ مورخین روس لکھتے ہیں کہ شہنشاہ روس ولادی میر (۱۰۱۵ء۔ ۹۵۶) اسلام کی طرف مائل تھا اور چاہتا تھا کہ تمام قوم روس کے لئے مذہب اسلام کا انتخاب کر دے۔ لیکن قازانی عالم نے شریعت اسلام کے تمام احکام میں سے صرف اس مسئلہ کو پیش کر کے اس پر اس قدر زور دیا کہ شہنشاہ نے غصہ میں آکر ان کو نکلوادیا اور عیسائی مذہب قبول کرلیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ (روس کے) ۶ کروڑ آدمی عیسائی ہو گئے"۔ بظاہر یہ غفلت بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ غفلت بدستور آج بھی جاری ہے۔ قازان کے عالم کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے مدعو سے غیر حکیمانہ گفتگو کی جس کی وجہ سے وہ بدگ گیا۔ آج کے مسلمانوں کی غلطی بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مدعو گروہوں سے بے فائدہ مقابلہ آرائی جاری کئے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کے مخاطبین کے دل اسلام کے بارہ میں سخت ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں۔ مگر اس کے برعکس وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنے لایعنی جھگڑوں سے لوگوں کو اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا کی قوموں کو دین حق سے قریب کرنا تو درکنار وہ دنیا کی قوموں کو دین حق سے دور کر رہے ہیں۔ اس جرم کے ساتھ مسلمان کبھی خدا کی مدد کے مستحق نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader