Urdu book · تصویر ملت

قومی نفسیات

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی نفسیات اخبار الجمعۃ (دہلی) کے ایڈیٹر نے پاکستان کا سفر کیا تھا۔ وہاں وہ مولانا تھانوی کے خلیفہ مولانا احتشام الحق تھانوی (۱۹۳۰- ۱۹۱۵) سے ملے تھے۔ مولانا مرحوم نے ایڈیٹر صاحب سے دیوبند میں اپنی طالب علمی کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک واقعہ بیان کیا جس کو انھوں نے اپنے مطبوعہ سفرنامہ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : مولانا احتشام الحق تھانوی نے مولانا حسین احمد مدنی کی انگریز دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کیا کہ انگلستان کی موجودہ ملکہ الزبتھ کے دادا کی تاج پوشی تھی۔ مولانا حسین احمد مدنی کا (دارالعلوم) دیوبند میں حدیث کا درس ہورہا تھا۔ کسی طالب علم نے مولانا مدنی کی خدمت میں ایک پرچہ بھیجا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج بادشاہ کی تاج پوشی کا دن ہے۔ اس لئے برطانوئی حکومت کے لئے بد دعا ہونی چاہئے۔ مولانا مدنی نے فوراً درس روک دیا۔ کتاب بند کردی اور فرمایا کہ بالکل صحیح ہے۔ اور اس کے بعد مولانا نے کچھ اس انداز میں (بد) دعا کرانی شروع کی کہ طلبہ پر رقت طاری ہوگئی ( روز نامہ الجمعیۃ دہلی، ۱۳ نومبر ۱۹۷۹) یہ واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین کی نفسیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام قائدین کا یہ حال رہا ہے کہ دوسری قومیں ان کے لئے نفرت اور عداوت کا موضوع بن گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسری قوموں کو انھوں نے اپنا حریف اور رقیب سمجھا۔ ان کو وہ اپنے دین کا مددعونہ سمجھ سکے۔ قومی ذہن اور دعوتی ذہن دونوں بالکل الگ الگ ذہن ہیں اور دو مختلف نفسیات بناتے ہیں۔ قومی حریف کے لئے آدمی کے اندر نفرت اور دشمنی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب یہ ذہن ہو کہ ہم خدا کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قومیں خدا کے دین کی مدعو، تو ان کے لئے ہمارے دل میں خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات امڈنے لگیں گے۔ حریف کے لئے آدمی کے اندر سے بد دعا کے کلمات نکلتے ہیں اور مدعو کے لئے دعا کے کلمات۔ مگر اس قسم کی بد دعا سراسر خدائی منصوبے کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے بزرگوں کی زبان سے نکلنے کے باوجود وہ آج تک خدا کی بارگاہ میں قبول نہ ہوسکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page