Urdu book · تصویر ملت

امت کا زوال

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

امت کا زوال سورۃ المائدہ (۱۳ - ۱۴) میں یہود اور نصاریٰ کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اس نصیحت کا بڑا حصہ کھو دیا جو انھیں ان کے نبیوں کے ذریعہ کی گئی تھی (فنسوا حظا مما ذکر وا بہ) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سوار السبیل سے بھٹک گئے۔ ان کے دلوں میں قساوت پیدا ہو گئی۔ وہ باہمی اختلاف اور ٹکڑاؤ میں مبتلا ہو گئے ۔ فنسوا حظا مما ذکر وا بہ کی تشریح حضرت حسن بصری نے ان الفاظ میں کی ہے: تركوا عری دینهم و وظائف اللہ تعالیٰ التي انھوں نے دین کے عُریٰ کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے لا يُقبل العمل الا بہ۔ (تفسیر ابن کثیر) ان وظائف کو ترک کر دیا جن کے بغیر اعمال کبھی قبول نہیں کئے جاتے۔ عروہ (جمع عُری) کے لفظی معنی کاج کے ہیں۔ یعنی وہ چیز جس میں کوئی چیز اٹکائی جائے۔ استعمالی معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب ہے نفیس مال ، کسی چیز کا بہتر حصہ ۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہود و نصاریٰ کو جو دین دیا گیا تھا اس کا اصل حصہ انھوں نے بھلا دیا۔ اب جو چیز وہ دین کے نام پر لیتے ہوئے ہیں وہ گویا ایک ایسا جسم ہے جس سے اس کی روح نکل گئی ہو۔ دین کا ایک ظاہری حصہ ہے اور ایک اس کا معنوی حصہ۔ دین کا معنوی حصہ دوسرے لفظوں میں اس کا خدائی حصہ ہے۔ یعنی خدائے سب سے زیادہ ڈرنا، اس سے سب سے زیادہ محبت کرنا۔ اس کے آگے قلب و دماغ کا پوری طرح جھک جانا، یہ دین کا عُریٰ ہے۔ دین کے ظاہری حصہ سے مراد وہ خارجی اعمال ہیں جو مختلف مواقع پر مختلف انداز سے کئے جاتے ہیں۔ کسی امت کا سوار السبیل پر ہونا یہ ہے کہ دین اس کے اندر معنوی (بافاظ دیگر، خدائی پہلو) کے اعتبار سے زندہ ہو۔ مگر جب امت میں بگاڑ آتا ہے تو اگر چہ اس کے درمیان اب بھی دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں مگر اس کی زندگی سے خدا حذف ہو جاتا ہے۔ دین کا معنوی پہلو گم ہو جاتا ہے اور دین کا ظاہری پہلو مزید اضافہ کے ساتھ اس کے درمیان ابھر آتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page