إلحد
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
تفکیر ہے۔ مگر اسلامی تفکیر، اس کے برعکس، مبنی بر فرد (individual-based) تفکیر ہے۔ اسلامی دعوت کا نشانہ نظام نہیں ہوتا۔ اسلامی دعوت کا اصل نشانہ فرد ہے۔ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق، نظام کو نشانہ بنا کر تحریک چلانا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے، کیونکہ نظام بذات خود کوئی چیز نہیں۔ اس دنیا میں فرد سے نظام بنتا ہے، نظام سے فرد کی تشکیل نہیں ہوتی۔ موجودہ زمانہ میں "نظامی" انداز کی نام نہاد اسلامی تحریکوں سے اسلام کو بے پناہ نقصانات پہونچے ہیں۔ اس کا پہلا نقصان یہ ہے کہ قرآن کی وہ تمام آیتیں جن میں فرد کی شعوری اور روحانی غذا تھی، اس کو غلط تفسیر کے ذریعہ نظام اور خارجی انقلاب سے جوڑ دیا گیا۔ سیاست بلاشبہ اسلام کا ایک جزو ہے۔ مگر سیاسی مسئلہ کا ان آیتوں سے کوئی تعلق نہیں جن سے اس مسئلہ کو انتہائی جسارت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ مثلاً قرآن میں حکم تھا کہ وربك فکبر (اپنے رب کی تکبیر کر) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عظمت کا اعتراف کر۔ اللہ کی عظمت و کبریائی کو اپنے دل و دماغ میں اتارلے۔ مگر نظام پسند ذہن نے اس کی سیاسی تفسیر کر ڈالی۔ یہ کہہ دیا گیا کہ وربك فكبر کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں خدا کی سیاسی بڑائی قائم کرو۔ سیاست کے ایوان پر خدائی اقتدار کا جھنڈا لہرا دو۔ اسی طرح بہت سی دوسری آیتوں کی غلط تفسیر کی گئی۔ اس طرح کی تفسیریں بلاشبہ مضاھاة (التوبہ ۳۰) ہیں۔ مزید یہ کہ ان تفسیروں نے تواضع کے دین کو سرکشی کا دین بنا دیا ہے۔ انھوں نے امت کے افراد میں تعمیری ذہن کے بجائے تخریب کاری کا ذہن ابھارا ہے۔ جو دین خوف خدا پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، وہ ان تحریکوں کے نتیجہ میں بے خوفی کا مزاج پیدا کرنے کا کارخانہ بن گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader