اختلاف امت
Urdu book, p. 312
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف امت حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہود ۷۱ فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور نصاریٰ ۷۲، فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور میری امت ۷۳ ، فرقوں میں بٹ جائے گی (افترقت اليهود علی احدى وسبعين فرقة وافترقت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة۔ و ستفترق امتى على ثلاث وسبعين فرقة) علماء سنت نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے، تاہم، جیسا کہ المقبل نے اپنی کتاب العلم الشامخ میں لکھا ہے، اس بارے میں کثیر روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں ، اس لیے اس کے اصل مفہوم میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا (حديث افتراق الامة الى ثلاث وسبعين فرقة رواياته كثيرة يشد بعضها بعضاً بحيث لا تبقى ريبة في حاصل معناه) اکثر لوگوں نے ۷۳، کی تعداد کو حسابی گنتی کے معنی میں لیا ہے ، چنانچہ انھوں نے مسلم فرقوں کی فہرست بنانے کی کوشش کی ہے ۔ مثلاً ابن حزم شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں ان کی تعداد ۵۷۲ بتائی ہے۔ الاشعرى نے مقالات الاسلاميين میں ان کی تعداد ایک سو سے زیادہ تک شمار کی ہے۔ الخوارزمی کے نزدیک ان فرقوں کی تعداد ۷۲ ہے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو دكتور محمد عمارة کی كتاب الخلافة ونشأة الاحزاب الاسلامية) مگر حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں ۷۳ ، کا لفظ تعداد کی کثرت بتانے کے لیے آیا ہے نہ کہ تعداد کی حد بتانے کے لیے ۔ اس لیے ہمیں تعداد کا شمار کرنے کے بجائے اختلاف کی اصل حقیقت پر غور کرنا چاہیے ۔ صحابہ کی رائے ان مسألة الخلاف بين المسلمين ارقت امير المؤمنين عمر بن الخطاب في لحظة تامل وتفكر، فظل يسأل نفسه : كيف تختلف هذه الامة ونبيها واحد؟ ثم اعاد طرح السؤال على عبدالله بن عباس ، فيما تشير الرواية، وقال له : كيف تختلف هذه الامة ونبيها واحد، وقبلتها واحدة ، وكتابها واحد۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader