اختلاف امت
Urdu book, p. 313
By Maulana Wahiduddin Khan
رد ابن عباس قائلا، یا امیر المومنین انما انزل علینا القرآن فقرأناه و علمنا فيما انزل، و انه سيكون بعد نا اقوام يقرأون القرآن ولا يدرون فيما نزل، فيكون لكل قوم رأی، فاذا كان لكل قوم فيه راي لاختلفوا فاذا اختلفوا اقتتلوا ـ تقول الرواية ان سيدنا عمرنز جر ابن عباس و نحره سیدنا علی: فانصرف ابن عباس و نظر عمر فيما قال فعرفه .... فارسل اليه وقال: اعد علی ما قلته فأعاد عليه فعرف عمر قوله واعجبه (ر.. يوسف القرضاوی - العمدة الاسلامية ص ۸۹ نقلاً عن مصادر اخری) مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے معاملے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فکر میں مبتلا کر دیا۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرتے رہے کہ یہ امت کیوں کر مختلف اور متفرق ہو جائے گی جب کہ اس کا پیغمبر ایک ہے جیسا کہ روایات بتاتی ہیں ، انھوں نے اس سوال کو عبد اللہ بن عباس کے سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ یہ امت کیسے مختلف ہو جائے گی جب کہ اس کا پیغمبر ایک ہے اور اس کا قبلہ ایک ہے اور اس کی کتاب ایک ہے۔ عبداللہ بن عباس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنین ہمارے اوپر قرآن اترا، پھر ہم نے اس کو پڑھا اور یہ جانا کہ وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ اور ہمارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو پڑھیں گے مگر وہ نہیں جانیں گے وہ کس بارہ میں اترا ہے۔ چنانچہ ہر ایک کی الگ الگ رائے ہو جائے گی ، اور جب ہر ایک کی الگ رائے ہوگی تو وہ اختلاف کریں گے اور جب اختلاف کریں گے تو آپس میں لڑیں گے۔ روایت کہتی ہے کہ حضرت عمر نے عبداللہ بن عباس کو جھڑک دیا اور حضرت علی نے بھی ان کو ڈانٹا۔ وہ واپس چلے گئے۔ پھر حضرت عمر نے ان کے قول پر غور کیا تو وہ سمجھ گئے۔ حضرت عمر نے دوبارہ انھیں بلایا اور کہا کہ اپنے قول کو دہراد۔ انھوں نے دہرایا۔ حضرت عمر ان کے قول کو سمجھ گیے اور اس کو پسند کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے جو بات کہی اور حضرت عمر نے جس کی تصدیق فرمائی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو پڑھنے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے معرفت کے ساتھ پڑھنا، اور دوسرا ہے معرفت کے بغیر پڑھنا۔ جو شخص معرفت کی سطح پر قرآن کو پڑھے ، وہ ہی قرآن کو حقیقی طور پر سمجھے گا، اور جو شخص معرفت کے بغیر قرآن کو پڑھے وہ پڑھنے کے باوجود قرآن کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader