Urdu book · تصویر ملت

سب سے بڑا فتنہ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑا فتنہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اس امت کے لیے میں سب سے زیادہ جس سے ڈرتا ہوں وہ منافق عالم ہے۔ لوگوں نے اس کی بابت مزید پوچھا تو حضرت عمر نے جواب دیا کہ عالم اللسان ، جاہل القلب (حياة الصحابه ، الجزر الثالث ، صفحه ۲۶۶) ایک شخص اندھا ہے۔ اس کے پاس ہاتھ ہے جس سے وہ پکڑلے ، مگر اس کے پاس آنکھ نہیں جس سے وہ دیکھے۔ ایسے آدمی کے ہاتھ میں ایک ہیرا دیدیا جائے تو کیا ہوگا ۔ وہ ہیرے کو ٹٹول کر ہیرے کی سختی کو جان لے گا۔ مگر وہ ہیرے کی چک کو نہ جان سکے گا۔ کیوں کہ ہیرے کی چک اور اس کی خوبصورتی کو جاننے کے لیے آنکھ کی ضرورت ہے ، اور آنکھ اس کے پاس موجود ہی نہیں۔ یہی معاملہ کسی آدمی کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے پاس بصارت ہو مگر اس کے پاس بصیرت نہ ہو۔ اس کے پاس ذہنی علم ہو مگر اس کے پاس قلبی معرفت نہ ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کی بابت حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ زبان کا عالم مگر قلب کا جاہل ہوگا۔ ایسا آدمی قرآن وحدیث کو پڑھے گا مگر وہ کہیں کی بات کہیں جوڑ دے گا۔ کیوں کہ اس کے پاس صرف الفاظ کا ذخیرہ ہے ، وہ معانی کی گہرائیوں سے واقف نہیں۔ وہ اسلام کے نام پر تحریک چلائے گا مگر وہ بے لگام گھوڑے کی طرح کسی بھی سمت میں دوڑنا شروع کردے گا۔ کیوں کہ اس کو راستوں کی پہچان حاصل نہیں ۔ ایسا شخص بے اعترافی کا کمال دکھائے گا مگر وہ اعتراف کا ثبوت نہ دے سکے گا ، کیوں کہ وہ اعتراف کی لذت سے آشنا نہیں۔ وہ بے صبری کا مظاہرہ کرے گا مگر وہ صبر کی روش اختیار نہ کرسکے گا ، کیوں کہ وہ صبر کی اہمیت کو نہیں جانتا۔ وہ اپنی ذات سے تعلق رکھنے والے مسائل کو فوراً سمجھ لے گا مگر ملت سے تعلق رکھنے والے مسائل کو سمجھنے سے قاصر رہے گا ، کیوں کہ اس کے سینہ میں اپنی ذات کا درد تو ہے مگر اس کے سینہ میں ملت کا درد نہیں ۔ جو لوگ الفاظ کے عالم اور معانی کے جاہل ہوں وہ بلاشبہ سب سے بڑا فتنہ ہیں ، امت مسلمہ کے لیے بھی اور وسیع تر معنی میں ساری انسانیت کیلیے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page