Urdu book · تصویر ملت

ایک مثال

Urdu book, p. 319

By Maulana Wahiduddin Khan

رب بما انعمث علی فلن اکون ظہیرا اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ پر فضل فرمایا تو للمجرمین (القصص) چنانچہ اگلے دن جب حضرت موسیٰ دوبارہ شہر کی طرف نکلے تو آپ نے دیکھا کہ وہی اسرائیلی دوبارہ ایک اور قبطی سے لڑارہا ہے۔ اس نے دوبارہ آپ کو مدد کے لیے پکارا۔ مگر اس کی بار بار کی لڑائی سے آپ نے یہ سمجھا کہ یہ شخص خود ہی غلط کار ہے اور وہ غیر ضروری طور پر دوسروں سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ آپ نے کہا کہ تم خود ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو۔ یہ اسرائیلی اگرچہ آپ کی اپنی قوم کا آدمی تھا، مگر آپ نے دوبارہ اس کی مدد نہیں کی۔ جب آپ نے اس کی مدد نہیں کی تو اس اسرائیلی نے کل کے دن کا راز کھول دیا جو ابھی تک چھپا ہوا تھا۔ اس نے شور کر دیا کہ وہ موسیٰ ہی ہیں جنھوں نے کل کے دن اسی مقام پر ایک قبطی کو گھونسنا مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسرائیلی کے اس فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک کینہ شخص ہے۔ کیوں کہ ایک کمینہ شخص ہی ایسا کر سکتا ہے کہ ایک ذاتی اختلاف پیش آنے کی بنا پر کسی کے نازک راز کو عوام کے سامنے کھولنے لگے۔ جب قتل کا راز کھل گیا تو مصر کے حکمران گروہ نے آپ کو پکڑنا چاہا تا کہ آپ سے قبطی کے قتل کا انتقام لے۔ مگر آپ خاموشی کے ساتھ ممفس سے نکل کر مدین کی طرف روانہ ہو گئے۔ (القصص) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے ، اس میں ہندستان کے موجودہ فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں نہایت اہم رہنمائی ملتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ آدمی مجرم کا مددگار نہ بنے۔ ہندستان کے موجودہ حالات یہ ہیں کہ مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں۔ وہ مختلف پہلوؤں سے اکثریتی فرقہ کے مقابلہ میں دبے ہوئے ہیں۔ اس بنا پر اکثر مسلم رہنما یہ فرض کر لیتے ہیں کہ یہاں کے فرقہ وارانہ جھگڑوں میں کبھی مسلمانوں کا قصور نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ کمزور فرقہ ہونے کی بنا پر وہ فریق ثانی سے لڑا کر جیت نہیں سکتے۔ مگر یہ مفروضہ غلط ہے۔ قرآن کی شہادت کے مطابق بنی اسرائیل نسبتاً زیادہ مغلوب ہونے کے باوجود مصر میں "مجرم" بن گئے۔ پھر مسلمان اس سے کمتر درجہ کی مظلومیت کے باوجود یہاں مجرم کیوں نہیں بن سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page