ایک اور امکان
Urdu book, p. 320
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اور امکان آج کے جاپان کے بارہ میں ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کا نام ہے " جاپان جو یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں۔" اس کتاب کے لکھنے والے دو ممتاز جاپانی ہیں۔ ایک سنتاروشی ہارا جو دو بار جاپان میں وزیر رہ چکے ہیں۔ دوسرے آکیو مور تیا جو عالمی شہرت یافتہ سونی کارپوریشن کے چیرمین ہیں : The Japan That Can Say No, by Shintaro Ishihara, and Akio Morita اس کتاب میں بہت سی نہایت سبق آموز باتیں ہیں۔ ایک موقع پر مصنفین لکھتے ہیں کہ امریکی خواہ اپنی فوجی طاقت کتنا ہی زیادہ بڑھائیں ، وہ اب ایک ایسی حد پر پہو نچ چکے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ۔ کیوں کہ اب وہ خود ہمارے ضرورت مند ہیں۔ جاپان اگر امریکہ سے یہ کہہ دے کہ ہم تمہارے ہاتھ اپنے چپس (chips) نہیں بیجیں گے تو امریکہ کی کمپیوٹر انڈسٹری متاثر ہو جائے گی ۔ حتیٰ کہ امریکہ اپنا جدید بمبار (stealth bomber) بھی جاپانی ٹکنالوجی کے بغیر نہیں بنا سکتا۔ اس قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص جاپان کے سیمی کنڈکٹر کو استعمال نہ کرے تو اس کے لیے درست کار کردگی کی کوئی ضمانت نہیں : If one doesn’t use Japanese semi-conductors, one cannot guarantee precision. یہی اس دنیا میں زندگی کا طریقہ ہے۔ اس دنیا میں زندگی کا مقام اس کو ملتا ہے جو اپنے آپ کو دوسروں کے لیے ناگزیر بنا دے۔ جو اپنے نفع بخش ہونے کو اس طرح ثابت کر دے کہ دوسرے لوگ اس کو اپنی ضرورت سمجھنے لگیں۔ کوئی شخص خود اپنا دشمن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے جو شخص یا گروہ اپنے آپ کو دوسروں کی ضرورت بنا دے ، اس کو نظر انداز کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جاپان نے اپنی اہمیت مادی اور اقتصادی اعتبار سے ثابت کی ہے۔ یہی اہمیت زیادہ بڑے پیمانہ پر اسلام کے حق میں موجود ہے۔ جس طرح جاپان کی نفع بخشی کی بنا پر امریکہ یا دوسرے ممالک ، اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح اسلام میں دینی اور انسانی اعتبار سے جو غیر معمولی نفع بخشی موجود ہے، اگر دنیا کے لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader