دین کے بدلے دنیا
Urdu book, p. 323
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ اور موجودہ زمانہ میں یہ فرق کیوں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں اسلام اجنبی تھا ۔ آج اسلام ایک معروف اور غالب دین بن چکا ہے ۔ قدیم زمانہ میں صرف جذبے سرو سامان لوگ اسلام کے ساتھ تھے ۔ آج ساری دنیا میں ایک ارب انسان اسلام کے ساتھ ہیں ۔ دولت اور اقتدار کے تمام اسباب اس کی پشت پر جمع ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دو دوروں میں مذکورہ بالا قسم کا فرق پیدا کر دیا ہے ۔ یہ معاملہ ہر دین کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ اور اب مسلمانوں کے ساتھ یہی صورت پیش آ رہی ہے ۔ ابتدائی دور میں خدا کی کتاب اور خدا کے دین کے ساتھ دنیوی اہمیت کی چیزیں جمع نہیں ہوتیں ۔ اس بنا پر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ کتابِ خداوندی یا دین خداوندی کے نام پر دھوم مچا سکے ۔ مگر لمبی مدت گزر جانے کے بعد خدا کی کتاب اور خدا کے دین کے اندر دنیوی اور قیاوتی قدریں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ خدا کے دین کو اسی طرح قیاوتی عنوان یا تجارتی سودا بنایا جا سکے جس طرح کوئی شخص غیر دینی اور غیر خدائی چیزوں کو بناتا ہے ۔ یہ ایک زبردست فتنه ہے جو ہمیشہ بعد کے دور میں پیدا ہوتا ہے ۔ اور یہی وہ فتنہ ہے جس سے قرآن میں ان الفاظ میں منع کیا گیا ہے کہ اللہ کی آیتوں کے بدلے ثمن قلیل نہ لو : اور میری آیتوں پر تھوڑا مول نہ لو (دینی دین کے نام ولا تشتروا بأياتي ثمناً قليلاً پر دنیا نہ کماؤ) (البقره ۴۱) قرآن میں اس مضمون کی کئی آیتیں ہیں جن میں اللہ کے کلام کے بدلے ثمن قلیل لینے کو منع کیا گیا ہے ۔ اس سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں استغلال یا استحصال (Exploitation) کہا جاتا ہے ۔ یعنی اسلام کو اپنی قیادت کا عنوان بنانا ۔ قرآن اور اسلام کا نام لینا اور اس کے ذریعہ سے دنیا کا سازو سامان حاصل کرنا ۔ موجودہ زمانہ میں یہ فتنہ بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہو گیا ہے ۔ لوگ اسلام کے چیمپئن بن کر عزت ، دولت ، قیادت کا ڈھیر اپنے گرد جمع کر رہے ہیں ۔ مگر قیامت میں جب پردہ ہٹے گا تو معلوم ہوگا کہ اسلام کے یہ چیمپئن صرف اسلام کے سوداگر (Exploiter) تھے ، اس کے سوا اور کچھ نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader