تعمیر یا تخریب
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر یا تخریب "وفاق" پاکستان کا ایک روزانہ اخبار ہے جو لاہور ، راولپنڈی ، سرگودھا اور رحیم یار خاں سے بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰، مئی ۱۹۹۰ء کے صفحہ اول پر ایک تصویر ہے جس میں مسلمانوں کا ایک ہجوم قہقہہ لگا رہا ہے اور پتھر اور ٹکڑی سے کسی چیز کو مار رہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: جماعت اسلامی کے زیر اہتمام عریانی اور فحاشی کے خلاف مظاہرے، مظاہرین ٹی وی سیٹ کو توڑ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ”جماعت اسلامی کی انسداد منکرات مہم کے آخری روز حسن اسکوارئر گلشن اقبال (کراچی) کے نزدیک علامتی طور پر ٹی وی کو سنگسار کر کے بے راہ روی عریانی اور فحاشی کے خلاف نفرت کا اظہار کیا گیا۔ ٹی وی سیٹ پر جب ایک ساتھ ہزاروں پتھر برسے تو ٹی وی ایک لمحہ میں چکنا چور ہو گیا۔ جماعت اسلامی کا یہ مظاہرہ اپنی نوعیت کا واحد اور منفرد مظاہرہ تھا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر اور اسلامی جمہوری اتحاد کے سیکرٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ آج ٹی وی سیٹ تباہ کیا گیا ہے، لیکن اگر ٹی وی نے اپنی روش نہ بدلی تو کل عوام کے ہاتھ ٹی وی اسٹیشن کے درودیوار تک پہنچ جائیں گے۔ اگر ٹی وی نے اپنا رویہ نہ بدلا اور شیطانی کام کرتا رہا تو شیطان کے ایجنٹوں کے ہاتھ توڑ دئے جائیں گے“ تقریباً یقینی ہے کہ جن لوگوں نے ٹی وی سیٹ پر سنگ باری کر کے ٹی وی سیٹ کو توڑا، ان میں سے اکثر کے گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود ہوگا۔ ایسی حالت میں یہ خود ایک شیطانی فعل ہے کہ چوک پر ایک ناکارہ ٹی وی سیٹ رکھ کر اس پر پتھر مارے جائیں اور یہ امید کی جائے کہ ملک سے ٹی وی کی برائی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹی وی کی برائی لوگوں کے اپنے اندر ہے نہ کہ ٹی وی اسٹیشن یا حکومتی ایوان کے اندر۔ اگر ٹی وی کی برائی کو ختم کرنا ہے تو لوگوں کے دلوں کو بدلے، حکومت کے خلاف نعرہ لگانے سے ٹی وی کی برائی کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ اگر حکومت پاکستان ٹی وی کے موجودہ تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader