تربیتی ضمیمہ
Urdu book, p. 327
By Maulana Wahiduddin Khan
تربیتی ضمیمہ ہندوستان میں مالی بدعنوانی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ چنانچہ ملک کے سیاسی ذمہ دار، مذہبی پیشوا اور دانشور طبقہ مسلسل اس کے خلاف لکھتا اور بولتا رہتا ہے۔ مگر یہاں کی مالی بدعنوانیوں میں ایک فی صد بھی کمی نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ نراد چودھری نے بجا طور پر لکھا ہے کہ اس کی وجہ ہندو قوم کی دولت پرستی ہے۔ ہندو عقیدہ کے مطابق ، دولت ایک معبود ہے اور لکشمی دیوی کی صورت میں ہر ہندو اس کی پرستش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں ناممکن ہے کہ محض دولت کے خلاف اپیلیں دینے سے دولت پرستی کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ ذہن بدلنے کا معاملہ ہے نہ کہ محض اخلاقی نصیحت کرنے کا۔ عجیب بات ہے کہ یہی خرابی موجودہ زمانہ کے اسلام پسندوں میں ایک اور شکل میں پائی جارہی ہے۔ اس کی ایک مثال جماعت اسلامی کا معاملہ ہے۔ جماعت اسلامی کے سنجیدہ حلقہ میں پچھلے پچاس برس سے یہ احساس پایا جاتا رہا ہے کہ جماعت کے افراد میں سیاسی ذوق تو خوب ابھرتا ہے مگر روحانی ذوق ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔ جماعت کے ذمہ داروں نے اس مسئلہ کا حل " تربیت " میں تلاش کیا ہے۔ غالباً ۱۹۵۳ میں جماعت اسلامی کے مرکز (رامپور) کے تحت پہلا تربیتی کیمپ قائم کیا گیا۔ اس کے انچارج مولانا سید حامد علی تھے۔ اس کے تحت " پیچ " کی صورت میں کچھ افراد کو پندرہ پندرہ دن کے لئے بلایا جاتا تھا۔ اور ان کو تربیتی کورس سے گزارا جاتا تھا۔ مگر چند ہی پیچ کے بعد محسوس ہوا کہ یہ بے فائدہ ہے۔ چنانچہ اس پروگرام کو ختم کر دیا گیا۔ اب جماعت اسلامی کی نئی قیادت کے تحت اس کو دوبارہ اس طرح زندہ کیا گیا ہے کہ جماعت کے مرکز ( دہلی ) میں جماعت کے ایک بزرگ کو " نائب امیر برائے تربیت " مقرر کیا گیا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ صرف سادہ لوحی ہے۔ یہ ماضی کی غلطی کو حال میں دہرانا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی اور حقیقت نہیں (دعوت ۲۸ مئی ۱۹۹۰) جماعت اسلامی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader