تعمیر یا تخریب
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
کیوں کہ جماعت اسلامی کے لوگ اگر اسے بنیاد نظر یہ میں گم نہ ہوتے تو وہ اپنی کوششوں کو سیاست کی چٹان پر ضائع نہ کرتے بلکہ اس کو افراد کی اصلاح میں لگاتے۔ اور پھر وہ مقصد اب تک حل ہو چکا ہوتا جو غلط مقام پر محنت کرنے کی وجہ سے حاصل نہ ہو سکا۔ مولان ابو الاعلیٰ مودودی نے انتہائی بے بنیاد طور پر یہ نظریہ بنایا کہ سماج کی یا سماجی شعبوں کی اصلاح حکومت کی طاقت سے ہوتی ہے، اس لئے حکومت کی طاقت پر قبضہ کرو۔ جماعت اسلامی کے افراد اسی بے بنیاد نظریہ سے متاثر ہو کر پچھلے پچاس برس سے حکومت پر قبضہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ دلیل کے اعتبار سے یہ نظریہ پہلے ہی رد کیا جا چکا تھا۔ مگر تجربہ کے اعتبار سے وہ جنرل ضیاء الحق کے زمانہ حکومت (۱۹۸۸ - ۱۹۷۷ء) میں رد ہو گیا ۔ اب اگر جماعت کے لوگ اپنی کوششوں کو مفید بنانا چاہتے ہیں تو انھیں چاہئے کہ وہ اپنے سابقہ سیاسی نظریہ کی غلطی کا اعلان کریں۔ اور اس کے بعد موجودہ تخریبی طریقوں کو چھوڑ کر خالص اصلاحی انداز میں افراد کی ذہنی تعمیر میں لگ جائیں۔ یہ اگر چہ ایک دیر طلب کام ہے، اور اس میں عوامی لیڈری بھی نہیں ملتی، تا ہم کسی معاشرہ میں کوئی حقیقی نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر نہیں۔ حکومت کی طاقت سے سماجی برائیوں کو دور کرنا، بظاہر ایک خوب صورت نظریہ ہے۔ مگر وہ عملاً ناممکن ہے۔ اگر آپ انسان کو بدلے بغیر حکومتی سطح پر برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ برائی ایک نئی صورت میں قائم ہو جائے گی، وہ لوگوں کی زندگیوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ برائی کو ختم کرنے کے سلسلہ میں پہلا کام افراد کے اندر برائیوں کو چھوڑنے کی آمادگی پیدا کرنا ہے۔ اس آمادگی کو پیدا کرنے سے پہلے ” انسداد منکرات“ کے نام پر حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے سے منکرات کا انسداد تو نہیں ہوگا البتہ پورا سماج تخریبی سماج بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی بھیڑ کو جمع کر کے چورا ہا مہ پرٹی وی سیٹ کے اوپر پتھر مارنا صرف جھوٹی لیڈری ہے۔ سچا لیڈر وہ ہے جو عوام کو اس پر آمادہ کرے کہ وہ اپنے گھروں میں جا کر اپنا اپنا ٹی وی سٹ توڑ ڈالیں۔ اور ایسا لیڈر سارے عالم اسلام میں کوئی ایک بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader