ایمانی صلاحیت
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمانی صلاحیت قدیم عربوں میں انسان کے اعلیٰ کردار کو بتانے کے لئے دو لفظ خاص طور پر بہت اہمیت رکھتے تھے ۔ مروۃ اور عرض۔ مروۃ کا لفظ مروہ سے بنا ہے۔ اس کے لفظی معنی ہیں مردانگی۔ قدیم عرب کے ذہن میں مروہ (یا مروت) کا لفظ ان تمام خصوصیات کا جامع تھا جو ایک سچے مرد کے اندر ہونی چاہئیں۔ مثلاً حوصلہ، بہادری، فیاضی، عالی ظرفی، قول کا پکا ہونا، کمزوروں کی حمایت، اختلاف اور شکایت کے باوجود بہتر سلوک وغیرہ۔ جاہلی دور کا ایک شاعر کہتا ہے : اذا المرء اعیتہ المروة ناشئا فطلبھا کھلھا علیہ شدید آدمی اگر جوانی میں مروة کے درجہ تک پہنچنے سے عاجز رہے تو بڑھاپے میں اس کو حاصل کرنا اس کے لئے بہت دشوار ہے۔ دوسرا لفظ عرض ہے۔ عرض کے معنی ہیں آبرو، عزت۔ یعنی آدمی میں یہ جوہر ہونا کہ وہ کچھ اخلاقیات کو اپنے لئے عزت کا سوال سمجھے اور ہر حال میں اس کو کرے خواہ اس کے کرنے میں کتنی ہی مشکل پیش آئے اور اسی طرح کچھ خلاف اخلاق باتوں کو وہ اپنی عزت اور آن کے خلاف سمجھے اور کسی حال میں اس کے قریب نہ جائے ۔ ایک جاہلی شاعر کہتا ہے : اذا المرء لم یدنس من اللّوم عرضہ فکل رداء یرتديه جمیل آدمی اگر ذلیل حرکت سے اپنی عرض کو داغدار نہ کرے تو جو چادر بھی وہ اوڑھے وہ اس کے لئے اچھی ہے۔ یہ مردانگی اور آن عربوں میں کمال درجہ میں تھی ۔ ان کے قول و فعل میں کوئی فرق نہ تھا۔ وہ جو کہتے تھے وہی کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ وعدہ سے پھرنا نہیں جانتے تھے۔ وہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی کوئی پست حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ کوئی مظلوم جب ان کو پکارتا تھا تو اس کی پکار پر دوڑنا دہ اپنے لئے فرض سمجھتے تھے۔ ان سے کوئی شخص عالی ظرفی سے کم تر درجہ کے سلوک کی امید نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اپنے مخالف کے بارے میں بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے جو واقعہ کے خلاف ہو۔ وہ جس بات کو حق سمجھ لیتے تھے اس سے ہٹنا ان کے لئے نا ممکن تھا خواہ اس کی خاطر انھیں کتنی ہی قربانی دینی پڑے۔ وہ جس معیار سے اپنے آپ کو دیکھتے تھے اسی معیار سے دوسروں کو بھی دیکھتے تھے۔ وہ شرافت اور عالی ظرفی کو اپنی آن کا مسئلہ سمجھتے تھے اور اس کی خاطر مرٹنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ یہی انسانی کردار دہ ابتدائی بنیاد ہے جس پر اسلام کی بلند عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جن لوگوں میں یہ اعلیٰ اوصاف ہوں وہی خدا کے دین کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ جو لوگ ان ابتدائی خصوصیات سے خالی ہوں وہ گویا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader