Urdu book · تصویر ملت

ایمانی صلاحیت

Urdu book, p. 335

By Maulana Wahiduddin Khan

اس بنیادی سے محروم ہیں جس کے اوپر دین کی بلند و بالا عمارت قائم ہوتی ہے ۔ یہی حقیقت ہے جو ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔ تجدون الناس معادن لمعادن الذهب تم لوگوں کوش کانوں کے پاؤ گے جیسے سونے چاندی کی (الفضة) خيارهم في الجاہلیة خيارهم کانیں ہوتی ہیں) ان میں جولوگ قبل از اسلام بہتر تھے في الا سلام اذا فقھرا ۔ وتجدون خیر وہی اسلام میں بھی بہتر ثابت ہوں گے جبکہ وہ دین کی سمجھ الناس في هذا الشان اشد ھم لہ کراہیة پیداکر لیں۔ اورتم اس چیز (عہدہ) کے معاملہ میں سب حتی یقع فیہ ۔ وتجدون شر الناس سے بہتر اس شخص کو پاؤگے جواس سے انتہائی بے رغبت ہو ذوالوجھین الذی یاتی ھؤلاء بوجہہ و اور تم لوگوں میں سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جو دو منہ والا ھولاء بوجہہ (بخاری ومسلم) ہو ۔ وہ ایک کے پاس ایک منہ لے کر جائے اور دوسرے کے پاس دوسرا منہ ۔ زمین میں طرح طرح کی معدنی کانیں ہیں ۔ کسی سے کوئلہ جیسی معمولی چیز نکلتی ہے اور کسی سے سونے چاندی جیسی قیمتی دھاتیں۔ یہی حال انسان کا ہے۔ انسان بھی طرح طرح کی صلاحیتوں کے ہیں ۔ ہر آدمی گویا ایک کان ہے۔ ان میں سے کوئی شخص ایسا ہے کہ اس کو کھودا جائے تو اس کے اندر سے کوئلہ اور کنکر جیسی چیزیں نکلیں گی۔ اور کوئی ایسا ہے کہ اس کو کھودے تو اس کے اندر سے سونے جیسا قیمتی کردار برآمد ہوگا۔ یہی چیز اسلام میں آدمی کے مقام کو متعین کرتی ہے ۔ جو آدمی اپنے اندر کمزور عمل اور سطحی نفسیات لئے ہوئے ہو وہ جب اسلام میں آئے گا تو یہاں بھی اس سے کمزوری اور سطحیت کا مظاہرہ ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی فطرت میں طاقت ور ارادہ اور اعلی جذبات کا خزانہ چھپائے ہوئے ہو وہ جب اسلام کی صف میں آئے گا تو اس سے طاقت ور کردار اور بر تر سلوک جیسی چیزوں کا اظہار ہوگا۔ حدیث میں بغرض وضاحت دونوں قسم کے انسانوں کی ایک ایک مثال دی گئی ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو سونا انسان ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو کوئلہ انسان ہے ۔ "سونا انسان‘‘ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ جاہ اور اقتدار سے انتہائی حد تک بے رغبت ہوتا ہے۔ وہ خدا کی بڑائی میں جیتا ہے۔ اس لئے اس کے دل میں یہ تمنا جگہ نہیں پکڑتی کہ وہ اپنی بڑائی کا مینار قائم کرے ۔ اس کے برعکس "کوئلہ انسان‘‘ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ موقع پرست ہوتا ہے ۔ وہ حالات کے لحاظ سے کلام کرتا ہے۔ جہاں جیسے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے وہاں اس کے مطابق الفاظ بول دیتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ بہترین لوگ ہیں اور دوسری قسم کے لوگ بدترین لوگ ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page