لفظی موشکافی
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظی موشکافی ہندوستان کی آزادی سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک ہندوستانی عدالت میں قتل کا ایک مقدمہ آیا۔ قاتل کی طرف سے مسٹر محمد علی جناح وکیل تھے۔ قتل بہت زیادہ واضح تھا۔ تمام کارروائی اس طرح چل رہی تھی گویا قاتل کو سزا ہو کر رہے گی۔ مگر مسٹر جناح نہایت مطمئن تھے۔ وہ عدالت کی کارروائیوں میں بڑا ہر دپی نہیں لے رہے تھے۔ قاتل اور اس کے ساتھیوں کو مسٹر جناح کے اوپر شبہ ہوا کہ وہ کسی وجہ سے کیس کی طرف سے غافل ہو گئے ہیں۔ اور قاتل کو سزا دلوا کر رہیں گے۔ مگر مسٹر جناح ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اطمینان رکھو، کچھ نہیں ہو گا۔ دن گزرتے رہے یہاں تک کہ قاتل کے لیے پھانسی کی سزا کا فیصلہ ہو گیا۔ مگر مسٹر جناح اب بھی مطمئن تھے۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے قاتل کو پھانسی دی جائے گی۔ مسٹر جناح بدستور مطمئن رہے یہاں تک کہ پھانسی کا وقت آگیا۔ مسٹر جناح اپنے پورے وکیلانہ لباس کے ساتھ پھانسی گھر پہنچے اور نہایت خاموشی کے ساتھ پوری کارروائی دیکھتے رہے۔ جب آخری لمحہ آیا اور ہینگ مین نے رسی کا حلقہ قاتل کی گردن میں ڈالا تو مسٹر جناح فوراً بولے کہ بس۔ اس کے آگے اگر کچھ اور کیا تو تم سب لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دوں گا۔ اب سارے لوگ حیران ہو گئے۔ مسٹر جناح نے کہا کہ جج نے اپنے فیصلے میں جو الفاظ لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کی گردن میں پھانسی دی جائے (He shall be hanged by the neck) اور ملزم کی گردن میں پھانسی کا پھندا ڈالنے کے بعد ان الفاظ کی تعمیل ہوگی، اب اس کے آگے آپ کچھ اور نہیں کر سکتے۔ اس وقت تک پھانسی کے ہندوستانی قانون میں اتنے ہی الفاظ تھے۔ اس واقعے کے بعد نیا قانون پاس کیا گیا جس میں یہ الفاظ لکھے گئے کہ ملزم کی گردن میں پھانسی دی جائے گی تا وقتیکہ وہ مر جائے۔ He shall be hanged by the neck till he is dead اس قسم کی لفظی موشکافیاں دنیا میں اکثر لوگوں کے لئے بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ آدمی عدالت کی گرفت سے بچ جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اپنی گرتی ہوئی قیادت کو دوبارہ سنبھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو کبھی غلط ثابت ہونے نہیں دیتا۔ اس کے ذریعہ وہ بڑے بڑے فائدے حاصل کرتا ہے مگر یہ سب کچھ موجودہ دنیا کی حد تک ہے۔ آخرت میں اس قسم کی موشکافی کسی کے کچھ کام نہ آئے گی۔ کیوں کہ آخرت میں تمام فیصلے حقیقت کی بنیاد پر ہوں گے نہ کہ لفظی کرتُب کی بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader