صرف الفاظ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
بے قیمت الفاظ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر ۱۹۷۴ میں نکلا۔ اس سے پہلے ہمارے بہت سے دوست ہم سے کہتے تھے کہ آپ اپنا علیحدہ پرچہ نکالئے، ہم اس میں آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔ پیسہ دیں گے۔ خریدار بنوائیں گے۔ اشتہار دلائیں گے۔ انتظامی خدمات انجام دیں گے۔ مگر عملاً جو صورت پیش آئی وہ صرف دوھتی: ا۔ بیشتر لوگ وہ تھے جنھوں نے سرے سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں دیا۔ الرسالہ نکالنے سے پہلے وہ بڑے بڑے الفاظ بولے تھے، انھوں نے ہم سے خوبصورت وعدے کئے تھے۔ مگر جب عمل کرنے کا وقت آیا تو انھوں نے اپنے الفاظ پر عمل نہیں کیا۔ وہ صرف بولنے والے ثابت ہوئے، وہ کرنے والے ثابت نہ ہوسکے۔ ۲۔ دوسرے لوگ ، نسبتاً کم، وہ تھے جنھوں نے الرسالہ کے ساتھ کچھ تعاون کیا۔ مگر ان کا تعاون بہت جلد ختم ہوگیا۔ ان کا حال یہ ہوا کہ ذرا سی کوئی بات ان کے مزاج کے خلاف ہوئی یا کسی نے ہمارے خلاف کوئی شوشہ ان کے کان میں ڈال دیا تو وہ بدک کر الگ ہوگئے۔ اس کے بعد کوئی بھی دلیل انھیں مطمئن کرنے والی ثابت نہ ہوسکی۔ الرسالہ کا یہ چھ سالہ تجربہ موجودہ سماج کا آئینہ ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر آدمی خوبصورت الفاظ کا ایک کارخانہ بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی شان دار باتیں کرتا ہے، بڑے بڑے وعدے کر لیتا ہے۔ مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو اپنے وعدوں اور اپنے الفاظ کو وہ اس طرح بھول جاتا ہے جیسے اس نے کچھ کہا ہی نہ تھا۔ اگر اس کو اس کی وعدہ خلافی یاد دلائیے، اس کے قول وعمل کے فرق کو اس پر واضح کیجئے تو اب اس کے پاس نئے الفاظ کا وسیع تر ذخیرہ موجود ہوگا جو اس کی اپنی ذات کو بالکل صحیح ثابت کر رہے ہوں اور آپ کو بالکل غلط۔ اس قسم کے الفاظ کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں ایسے بولے ہوئے الفاظ جن پر عمل کے وقت عمل نہ کیا جائے گویا بے کار چیک (Dud Cheque) ہیں جو صرف کاغذ پر لکھ کر دے دئے جائیں مگر آدمی کے کھاتہ میں ان کی ادائگی کے لئے ضروری رقم موجود نہ ہو۔ یہاں ہم موطا امام مالک کی ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ امام مالک نے کہا، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قاسم بن محمد کہتے تھے کہ میں نے ایسے لوگ (اصحاب رسول) دیکھے ہیں جو قول پر خوش نہیں ہوتے تھے۔ امام مالک نے کہا، اس سے ان کی مراد عمل تھی۔ آدمی کا صرف عمل دیکھا جائے گا، اس کا قول نہیں دیکھا جائے گا (انسانینظر الى عمله ولا ينظر الى قوله)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader