جب دین مشتبہ ہو جائے
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
خواص کے لئے اتناری اہم ہوتا ہے جتنا ایک عام آدمی کے لئے اچھا گھر۔ کوئی قائد ایسے ایک حلقہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لئے جب کسی خوش قسمت انسان کے گرد ایسا حلقہ بن جائے تو ہر قیمت پر وہ اس کو باقی رکھنا ضروری خیال کرتا ہے۔ حالاں کہ یہ " حلقہ " ہی وہ چیز ہے جو خواص کے لئے سب سے زیادہ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ ایک آدمی جب آخرت کے لئے فکر مند ہوتا ہے تو وہ دنیا میں اپنے گھر کو برباد کر لیتا ہے۔ یہی معاملہ خواص کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جو شخص حقیقی معنوں میں آخرت کو اپنا مسئلہ بنائے گا اس کے ساتھ لازماً یہ ہوگا کہ دنیا میں اس کا حلقہ ٹوٹنے لگے گا۔ اخروی مصلحتوں کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے وہ دنیوی مصلحتوں کی رعایت نہ کر سکے گا۔ خدا کو خوش کرنے کی کوشش میں وہ بندوں کو ناراض کر لے گا۔ اس کی مقبولیت نامقبولیّت میں تبدیل ہو جائے گی۔ استقبالیہ دینے والے اس کو نظر انداز کریں گے۔ شان دار خطابات کے بجائے اس کو برے الفاظ کا تحفہ پیش کیا جائے گا۔ لوگوں کی نظر میں باعثِ بننے کے بجائے لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہو جائے گا۔ ادارہ اور کانفرنسیں اس کو دعوت نامے روانہ کرنا بھول جائیں گی۔ کسی زندہ انسان کے لئے بلا شبہ یہ بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر جب تک آدمی اس امتحان کی بھٹی پر نہ پہنچے وہ اعلیٰ ایمانی کیفیات کا تجربہ نہیں کرتا ، وہ خدا کی طرف سے بولنے کے قابل نہیں ہوتا۔ آخرت کا داعی وہی بن سکتا ہے جو آخرت کے مسئلہ میں شدت احساس سے مچل رہا ہو۔ یہ شدت ایک ایسے شخص میں پیدا نہیں ہو سکتی جو دنیا کی زندگی میں " گھر والا " بنا ہوا ہو۔ اس قسم کی آتشیں کیفیت کا مالک تو وہی شخص ہو سکتا ہے جو دنیا میں بے گھر اور بے یارو مددگار ہو جائے ۔ ایسے ہی ایک انسان کے اندر وہ احساسِ محرومی جاگتا ہے جو اس کو پانے کے لئے بے تاب کر دے۔ اپنی نفسیاتی کیفیت کے اعتبار سے ہی وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو آخرت سے اس طرح ہوشیار کرے جیسے کہ نوگ آگ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ جس کو آگ کی پیں لگ رہی ہوں وہی جانتا ہے کہ آگ کیا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ آتشیں الفاظ میں لوگوں کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کرے ۔ جو مجرد جی کی زمین پر کھڑا ہو دی یافت کا پیغام یہیں سکتا ہے۔ جس نے محرومی کا تجربہ نہیں کیا ، اس کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ لوگوں کو آخرت کی محرومی کے مسئلہ سے ہوشیار کرنے والا بنے ۔ لوگ جس چیز کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں اسی کو کھونے میں ان کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ لوگ ایسے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں جن میں کچھ کے بغیر " مصلح ملت زندہ باد " کے استقبالئے ملتے ہوں ۔ جس میں صرف کچھ الفاظ بول کر عمل اور جد و جہد کا خطاب عطا کیا جاتا ہو۔ جس میں ایک تقریری نمائش پر شہرت اور عزت کے خزانے لٹائے جاتے ہوں۔ جس میں نعروں اور جھنڈوں کی سیاست چلانے پر آسمانی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ ملتا ہو۔ جس میں آدمی دوسروں سے چندہ لے کر لاکھ روپیہ کی تھیلی بنائے اور پھر ہوائی جہاز میں اڑ کر " مظلومین " کی امداد کے لئے سفر کرے ۔ ہر آدمی چھوٹے الفاظ کی ایک ڈکشنری لئے ہوئے ہے ، صرف اس لئے کہ چھوٹے الفاظ کی ڈکشنری دنیا کے بازار میں سب سے زیادہ دھوم کے ساتھ بکتی ہے۔ کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس دنیا میں سب سے قیمتی سودا وہ ہے جو بکنے سے زہ گیا ہو۔ کیوں کہ خدا خود اس کا خریدار ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader