Urdu book · تصویر ملت

جب دین مشتبہ ہو جائے

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم الله الرحمن الرحيم کسی کے نزدیک اسلام ایک عملیاتی نسخہ ہے، اپنی زندگی کے ساتھ اسلام کے عملیاتی ضمیمہ کو جوڑ لو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ کوئی سارے معاملے کو بزرگویں کا معاملہ سمجھتا ہے، کسی زندہ یا مردہ بزرگ کا دامن تھام لو اور ان کی برکت سے دونوں جہان کی نعمتیں سمیٹ لو۔ کچھ لوگ ہیں جن کو خوش قسمتی سے اور بھی زیادہ کامیاب طریقہ حاصل ہوگیا ہے، شان دار تقریریں کرو اور اس کے بعد دنیا میں لیڈری ہے اور آخرت میں جنت الفردوس ۔ یاد رکھئے ۔ جنت اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ اس قسم کے سستے سکوں سے حاصل ہوجائے۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ اپنے لڑکے کو " کامیاب ڈاکٹر" بنانے کے لیے اس کو عملیاتی ورزشیں کرانے لگے۔ یا لڑکے کو کسی پہنچے ہوئے درویش سے بیعت کرائے اور ان کی برکت کے بھروسے پر بیٹھ جائے۔ یا " ڈاکٹر کا نفرنس" کے پنڈال پر لڑکے کو ہار پہنا کر سمجھ لے کہ اس نے بیٹے کا کلینک کھولنے کا یقینی انتظام کر لیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسلام کے بارے میں لوگوں نے اسی قسم کے سستے نسخوں پر امیدوں کے عالی شان محل بنارکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت اسی طرح سرگرمیوں کی ایک زیادہ اعلیٰ جگہ ہے جس کا ایک اسفل نمونہ ہم موجودہ دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی مقام اسی کو ملتا ہے جو اس کی قابلیت پیدا کرے۔ اسی طرح آخرت کے مناصب اور مقامات پر وہی لوگ فائز کئے جائیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا ہو: قد افلح من زكها وقد خاب من دسها (شمس) مراد کو پہنچا جس نے اپنے جی کو سنوارا اور نامراد ہوا جس نے اس کو خاک میں ملایا (ترجمہ شاہ عبد القادر) قوم ثمود کے سامنے ایک اونٹنی ظاہر ہوئی ۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو ہلاک کر دیں۔ ان کے رسول نے ان کو متنبہ کیا کہ اس کو تم "اونٹنی " کا معاملہ نہ سمجھو۔ یہ ایک خدائی معاملہ ہے ۔ مگر ان کی سمجھ میں بات نہ آئی۔ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کے لئے اپنی آنکھوں کو اندھا بنا رکھا تھا۔ ان کو " اونٹنی " دکھائی دی۔ مگر خدا نظر نہ آیا۔ انھوں نے بڑھ کر اونٹنی کو مار ڈالا ۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ برتری اور بہادری کا ٹاسل لے رہے ہیں ۔ حالانکہ ایسا کر کے وہ اپنے اندھے پن کا ثبوت فراہم کر رہے تھے۔ وہ بھول گئے کہ آخرت کی دنیا ان لوگوں کے لئے ہے جو اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ "اونٹنی " سے گزر کر خدا کو دیکھنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ جن کو اونٹنی نظر آئے مگر خدا نظر نہ آئے ، وہ خدا کے نزدیک صرف اندھے ہیں اور اسی حال میں وہ اگلی دنیا میں اٹھائے جائیں گے : " جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا، اس کے لئے تنگ گزران ہے۔ قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! کیوں تو نے مجھ کو اندھا اٹھایا ، دنیا میں تو میں آنکھ والا تھا۔ جواب ملے گا کہ اسی طرح پہنچی تھیں تمھارے پاس ہماری نشانیاں پس تم نے ان کا کچھ خیال نہ کیا۔ اسی طرح آج تمھارا کچھ خیال نہ کیا جائے گا ۔ (طٰہٰ) دنیا میں جن لوگوں نے " اندھے پن " کا ثبوت دیا ہو وہ آخرت میں " بینائی " کے مناصب پر کیسے فائز کئے جاسکتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page