Urdu book · تصویر ملت

جب دین مشتبہ ہو جائے

Urdu book, p. 349

By Maulana Wahiduddin Khan

بیہقی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ قریش کے سردار ایک روز مکہ میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے اندر سے ایک ایسے شخص کا انتخاب کرو جو سحر اور کہانت اور شاعری کا بہترین جاننے والا ہو اور اس کو محمد کے پاس بھیجو۔ اس شخص نے ہماری جماعت میں تفریق ڈال دی ہے۔ ہمارے معاملہ کو منتشر کر دیا ہے اور ہمارے دین کو عیب لگایا ہے۔ وہ محمد سے جا کر بات کرے اور دیکھے کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ اس کام کے لیے عتبہ بن ربیعہ سے بہتر کسی شخص کو نہیں جانتے۔ اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا اے محمد، تم بہتر ہو یا تمھارے باپ عبد اللہ بہتر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، عتبہ نے دوبارہ کہا، تم بہتر ہو یا تمھارے دادا عبد المطلب بہتر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی چپ رہے۔ عتبہ نے کہا، اگر تمھارایہ خیال ہو کہ یہ لوگ تم سے بہتر تھے تو انھوں نے انھیں معبودوں کی پرستش کی ہے جن کو تم عیب لگاتے ہو۔ اور اگر تمھارا خیال یہ ہو کہ تم ان سے بہتر ہو تو تم اپنی بات کہو تا کہ ہم سنیں۔ عتبہ جب اپنی بات سے فارغ ہو چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر سورہ حم سجدہ کی ابتدائی تیرہ آیتیں پڑھیں ۔ یہاں تک کہ آپ پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ ____________ پس اگر وہ اعراض کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اسی طرح کے صاعقہ (کرک کے) سے ڈراتا ہوں جیسا کثار عاد اور ثمود پر نازل ہوا (۱۳) عتبہ نے اس کو سن کر کہا؛ بس، کیا اس کے سوا کچھ اور تمھارے پاس نہیں ۔ آپ نے کہا نہیں۔ عتبہ قریش کے پاس واپس آیا۔ اس کے بعد عتبہ اور قریش کے درمیان گفتگو کی جو رو داد نقل ہوئی ہے اس کے چند الفاظ یہ ہیں: ما فہمٹ شیئاً مما قال غير انہ انذ ركم انھوں نے جو کہا میں اس کو کچھ نہیں سمجھا، سوا اس کے کہ صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود - قالوا انھوں نے تم کو عاد و ثمود جیسے کرک سے ڈرایا ہے۔ قریش نے ويلك يكلمك الرجل بالعربية لا تدرى کہا، تمھارا برا ہو، آدمی تم سے عربی زبان میں کلام کرتا ہے ما قال ۔ قال لا والله ما فہمٹ شیئاً مما اور تم سمجھے نہیں کہ اس نے کیا کہا۔ عتبہ نے کہا۔ خدا کی قسم میں کرک کے ذکر کے سوا اور کچھ نہیں سمجھا۔ قال غير ذكر الصاعقة قرآن کی اکتالیسویں سورہ کی یہ آیتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو سنائیں ان کو پڑھیے اور پھر غور کیجئے کہ ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ عتبہ کی سمجھ میں کیوں نہ آسکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآنی الفاظ کے عربی مفہوم کو تو وہ جانتا تھا مگر ان کے اندر چھپے ہوئے معنی سے وہ نا آشنا تھا۔ ان آیتوں میں آخرت کی اہمیت کا ذکر ہے جب کہ عتبہ صرف دنیا کی اہمیت سے باخبر تھا۔ ان میں خدا کی بڑائی کا چرچا ہے جب کہ عتبہ صرف انسانوں کی بڑائی سے آشنا تھا۔ ان میں کائنات کو خدائی نشانی کی حیثیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page