حکومت کا تصور
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماحول کے اندر اس کا غلبہ قائم رہے۔ عمومی طور پر ایسی ذہنی فضا بن جائے کہ دین اور خدا کی بات ہلکی بات نہ رہے بلکہ وہ لوگوں کو بھاری بھر کم بات نظر آئے۔ ذہنی غلبہ کی یہ فضا اسلام دو طریقوں سے حاصل کرتا ہے۔ ایک سیاسی قوت، دوسرے، عقلی استدلال۔ اگر کسی علاقے میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم ہو جائے تو خواہ حکومت مذہبی معاملات میں غیر جانب دار ہی کیوں نہ ہو، اسلام کے حق میں ذہنی غلبہ کی ایک فضا خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔ ہندوستان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آٹھ نو سو برس کی حکومت کے باوجود یہاں کے مسلم حکمرانوں نے کبھی اشاعت دین کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس غلطی کے لئے میں انہیں معذور قرار دینے کا وکیل نہیں بن سکتا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ مسلم اقتدار نے عمومی غلبہ کی جو فضا پیدا کی، وہ تبلیغ دین کی غیر سرکاری کوششوں میں مددگار ثابت ہوئی۔ جب اس علاقے کو خراسان اور ماوراء النہر کے سیاسی حوصلہ مندوں نے فتح کیا تو اسی کے ساتھ بخارا، بلخ، سمرقند خوارزم، عراق اور ایران کے علماء قطار در قطار یہاں آنا شروع ہوئے۔ ابتدا ء ملتان اور لاہور کے علاقے ان کا مرکز بنے۔ اس کے بعد جب ۶۰۷ ھ میں سلطان شمس الدین التمش نے دلی کو دارالسلطنت بنایا تو ہر طرف سے علماء سمٹ سمٹ کر دلی میں جمع ہونے لگے۔ اس طرح حکومت کے براہ راست تعاون کے بغیر، مگر اسلام کے سیاسی غلبہ کی عمومی فضا میں، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے وہ سارے کارنامے انجام پائے جن کا نتیجہ آج ہم اس برصغیر میں ۲۰ کروڑ مسلمانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ ذہنی غلبہ کی اس فضا کے لئے سیاسی غلبہ ناگزیر نہیں، وہ عقلی استدلال کے ذریعہ بھی پیدا ہوتی ہے حتیٰ کہ عقلی بنیادوں پر مبنی ذہنی فضا اتنی وسیع اور قوی شکل اختیار کر سکتی ہے کہ سیاسی غلبہ سے پیدا ہونے والی فضا پر بھی بھاری ثابت ہو۔ یہاں مثال کے طور پر مغربی قوموں کی موجودہ سائنس کا نام لیا جا سکتا ہے مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار آج ایشیا اور افریقہ سے تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مگر مغربی قوموں نے دماغی علوم میں جو برتری حاصل کی ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ آج بھی آزاد شدہ ممالک پر ان کا مکمل ذہنی غلبہ قائم ہے۔ کسی چیز یا کسی نظرئے کا ” فارن “ ہونا اس کی بہتری کا ایسا ثبوت ہے جو بلا بحث تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ بن گیا ہے کہ جو چیز مغرب سے آئے وہ ضرور معیاری ہوگی۔ حالاں کہ صرف چند سو برس پہلے مغربی سائنس کی یہ حیثیت نہیں تھی۔ کیمسٹری، قدیم طرز کے کیمیا دانوں کے ہاتھ میں تانے پیتل کو سونا بنانے کا ایک خیاط تھا اور فلکیات پرانے نجومیوں کے ہاں لوگوں کو مستقبل کی بات بتا کر ان کو لوٹنے کی ایک بدنام تدبیر تھی۔ ذہنی مرعوبیت اور تصوراتی غلبہ کی یہ فضا جب کسی تحریک کے حق میں پیدا ہو جائے تو بہت سی مصنوعی اور غیر ضروری رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور تحریک کی توسیع و ترقی کا کام ایک موافق فضا میں ہونے لگتا ہے۔ ذہنی غلبہ کی فضا کی مثال پختہ سڑک کی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی نا ہموار بیابان میں چلا رہے ہوں تو طرح طرح کی زمتیں پیش آتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ کو ایک بنی بنائی پختہ سڑک مل جائے تو سفر نہایت تیزی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader