حکومت کا تصور
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
اور آسانی سے ہونے لگے گا۔ علمِ کلام کا ایک کام اسی قسم کی ذہنی فضا پیدا کرنا ہے__ علوم کا ایسا مطالعہ کہ وہ اسلامی عقائد کے نوید نظر آنے لگیں ۔ تاریخ کی ایسی نقشہ کشی جس میں اسلام اپنی واقعی جگہ پا لے۔ حقائقِ کائنات کی ایسی تعبیر جس سے اسلام کی تصدیق و تصویب ہو۔ اسلامی صداقتوں کا ایسے انداز اور ایسے دلائل کے ساتھ اظہار جو وقت کے ذہن پر عظیم سوالیہ نشان بن کر مسلط ہو جائے۔ غرض برتر علمی تدوین اور اعلیٰ استدلال کے ذریعہ لوگوں کے طرز فکر پر اس طرح چھا جانا کہ ان کی عقل کو نظر آنے لگے کہ اسلام کے سوا کوئی چیز حقیقت کے خانے میں بیٹھ ہی نہیں رہی ہے۔ جہاں اسلام کا احترام دلوں میں جگہ پا چکا ہو وہاں دعوتِ اسلام کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے اور یہ ایک طاقتور علمِ کلام کا نہایت اہم فائدہ ہے۔ واضح ہو کہ ”اقامت دین“ اور ”غلبہ دین“ دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ اقامت دین کا تعلق تمام تر فرد سے ہے، دین کو قائم کرو (شوریٰ) کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک شخص کو جس دین کا حامل بننا ہے اس کا وہ حامل بنے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کو دینی زندگی بنائے۔ اللہ سے ڈرنا، اللہ سے محبت کرنا، اللہ کا پرستار بن جانا، روز و شب کی زندگی میں اللہ کو یاد کرتے ہوئے معاملہ کرنا۔ اپنے تمام معاملات کو آخرت کی بنیادوں پر قائم کرنا۔ یہی ہر فرد کا دین ہے اور اس دین پر اپنی انفرادی زندگی میں پوری طرح قائم ہو جانے کا نام اقامت دین ہے۔ غلبہ دین سے مراد ہے کسی ماحول میں اسلام کی سیاسی یا غیر سیاسی بالا تری قائم ہو جانا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں مصر میں اہل اسلام کی سیاسی برتری قائم ہو گئی تھی۔ مگر ملک کا قانون اس کے باوجود وہی تھا جو مشرک بادشاہ کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حبش میں یہ سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور نہ وہاں کا قانون اسلام کا قانون تھا۔ مگر مسلمانوں کی نظریاتی اور اخلاقی برتری نے مسلمانوں کو وہاں یہ مقام دے دیا تھا کہ وہ عزت کے ساتھ وہاں رہیں اور آزادی کے ساتھ اپنے دین کی تبلیغ کریں۔ یہ چیز اتنی کافی سمجھی گئی کہ مسلمانوں نے حبش کے علاقہ میں کبھی فوج کشی نہ کی۔ خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں مسلمانوں کے زیر اقتدار علاقہ میں یہ غلبہ مسلمانوں کو اپنی کامل صورت میں حاصل رہا۔ اقامتِ دین اور غلبہ دین کو اگر ہم معنی قرار دیا جائے تو اس سے زبردست خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک طرف یہ کہ اقیموا الدین کے حکم سے اصلاحِ خویش کا جو جذبہ بھڑکنا چاہئے وہ نہیں بھڑکتا۔ کیونکہ اب اس حکم کا رخ اپنے بجائے دوسروں کی طرف ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہ مسلم ملکوں میں جہاں اسلام کے حق میں غلبہ کی فضا موجود ہے اس کو استعمال کر کے اسلام کے لئے تعمیری اور دعوتی کام کرنے کا شوق نہیں ابھرتا بلکہ سارا زور اس پر صرف ہونے لگتا ہے کہ مسلم حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کرو کیونکہ وہ اسلام کے اجتماعی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کوششیں اس طرح ضائع ہو جاتی ہیں کہ ان سے نہ اقامت دین کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ غلبہ دین کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader