دعوت کی اہمیت
Urdu book, p. 356
By Maulana Wahiduddin Khan
باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو سکیں۔ ان تحریکوں کی عظیم الشان کامیابیوں کے درمیان عظیم الشان ناکامی کا سبب صرف ایک تھا۔ وہ یہ کہ تمام کی تمام تحریکیں صرف مسلمانوں میں کام کرتی رہیں۔ ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک نہیں ہے جس کی جدوجہد کا نشانہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہو۔ سب کے سب "پرانے خون" پر محنت کرتے رہے۔ "نئے خون" کے لیے ان میں سے کوئی متحرک نہ ہو سکا۔ یہی ان تحریکوں کی ناکامی کا اصل سبب ہے۔ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے کے لیے "نئے خون" کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ دور میں ہماری تمام تحریکیں صرف "پرانے خون" پر اپنی طاقت صرف کرتی رہیں۔ اس کا نتیجہ جو ہونا تھا وہی ہوا۔ ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ کی بے شمار کوششیں ضائع ہو کر رہ گئیں ۔ اور اسلام کی تاریخ دوبارہ نہ بنائی جاسکی۔ بے جان افراد کے ذریعہ جاندار قوم کی تعمیر ممکن نہیں۔ بنوامیہ کے بعد اسلامی تاریخ پر جو زوال آیا اس کو دوبارہ عروج نئے خون کے ذریعہ ملا۔ اب موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ جس زوال سے دوچار ہے اس کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اسلام کی صفوں میں نئے خون کو داخل کیا جائے۔ یہی پہلے بھی اس مسئلہ کا حل تھا اور یہی آج بھی اس مسئلہ کا حل ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعہ سے دورِ جدید میں دوبارہ اسلام کی نئی تاریخ بنائی جاسکے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے : وان تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم اور اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے لا يكونوا امثالکم ( محمد ۔ آخر ) گا، پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ دین ایک ابدی حقیقت ہے۔ البتہ دین کے عاملین بدلتے رہتے ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل ہی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ عاملین دین کے اندر مطلوبہ کردار باقی رہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader