دعوت کی اہمیت
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوتی عمل کی اہمیت صرف اس اعتبار سے نہیں ہے کہ وہ اسلام کی توصیع اور اشاعت کا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت خود موجودہ مسلمانوں کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ ہے۔ گڑھے کے پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے مگر دریا کے پانی میں کبھی بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ گڑھے کا پانی ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ گڑھے کا پانی ہمیشہ وہی پانی رہتا ہے۔ اس میں نیا پانی داخل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس دریا کا پانی جاری پانی ہے اس میں ہر وقت نیا پانی آتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گڑھے کے پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اور دریا کے پانی میں بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ قوموں کا بھی ہے۔ قومیں اسی وقت تک زندہ رہتی ہیں جب تک ان میں نیا خون داخل ہوتا رہے۔ جس قوم میں نیا خون داخل ہونا بند ہو جائے وہ بند گڑھے کی طرح بے جان ہو کر رہ جائے گی۔ اسلام کی تاریخ اُس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر بنوامیہ کے زمانہ تک اس کو زبردست عروج حاصل رہا۔ اس کے بعد بنو عباس کے دور کے نصف آخر میں زوال شروع ہو گیا۔ عروج کی تاریخ پستی کی تاریخ میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے بعد اسلام کو دوبارہ عروج اس وقت ہوا جب کہ ترک اقوام بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو گئیں۔ ترکوں کے ذریعہ اسلام کو دوبارہ عروج حاصل ہوا جو کئی سو سال تک جاری رہا۔ اسلام کے جسم میں نئے خون نے داخل ہو کر اسلام کو نئی زندگی دیدی۔ انیسویں صدی میں مغربی طاقتیں ابھریں۔ انھوں نے مغلوں اور ترکوں کو مغلوب کر کے تقریبا ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کر لیا۔ اسلام کی تاریخ دوبارہ تنزل کا شکار ہو گئی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اسلام کے جسم کو دوبارہ نئے خون کا انتظار ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بیسویں صدی کے نصف اول تک کا زمانہ اسلامی تحریکوں کا زمانہ ہے۔ اس سو سال مدت میں بے شمار تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انھیں غیر معمولی پھیلاؤ حاصل ہوا۔ وہ مجموعی طور پر تقریباً تمام مسلمانوں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر عظیم الشان ہنگاموں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader