موجودہ مسلمان
Urdu book, p. 359
By Maulana Wahiduddin Khan
گویا دعوتی کام کرنا تو درکنار، وہ شعوری طور پر جانتے بھی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ دعوت ایک عظیم ترین عالمی مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں میں دعوت کا ذہن بیدار ہوتا تو وہ ہمیشہ پھیلاؤ کی بات سوچتے۔ وہ چاہتے کہ زمین کی تمام حد بندیاں ٹوٹ جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دعوتِ الی اللہ کا کام کر سکیں۔ مگر جب انہوں نے دعوت کو بھلا دیا تو وہ ہر جگہ پناہ گاہیں تلاش کرنے لگے جہاں سمٹ کر وہ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ بے مقصد انسان تقسیم چاہتا ہے، با مقصد انسان انضمام کا طالب ہوتا ہے۔ بے مقصد انسان تحفظ کی طرف دوڑتا ہے، با مقصد انسان توسیع اور اقدام کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ بے مقصد انسان سمٹاؤ میں پناہ لیتا ہے، با مقصد انسان پھیلاویں اپنے حوصلوں کی تکمیل ڈھونڈتا ہے ۔ آہ وہ مسلمان، جنھوں نے خدا اور رسول کو کھو کر اپنی دنیا بھی کھودی اور اپنا دین بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان آج ہر جگہ مقامی اقتدار کے طالب ہیں ، عالمی اشاعتِ اسلام کا ان کے اندر حوصلہ نہیں۔ وہ مادی مواقع کے طالب ہیں ، دعوتی مواقع کے لیے ان کے اندر کوئی تڑپ نہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ان کی تمام سرگرمیوں کو بے فائدہ بنا دیا ہے۔ قومی اقتدار اور مادی مفاد کی جدوجہد مسلمانوں کو دوسری قوموں کا حریف بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس مواقع دعوت کی طلب مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیر خواہی کا مزاج پیدا کرتی ہے۔ قومی اندازِ فکر محدودیت کی طرف لے جاتا ہے اور دعوتی اندازِ فکر آدمی کی نظر کو لامحدود بنا تا ہے۔ انھیں دو باتوں میں مسلمانوں کے حال اور مستقبل کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader