اصل مسئلہ
Urdu book, p. 360
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل مسئلہ فلسطینی تحریک انتفاضہ (uprising) کے بارہ میں بہت سی کتابیں چھپی ہیں ۔ ان میں سے ایک ۱۲۵ صفحہ کی وہ عربی کتاب ہے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے : علی طریق الانتفاضة المباركة ، بقلم منير محمد ، دار النفائس ، الكويت ، ١٤١٠ھ اس کتاب کے ایک باب میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مسلم عورت مدینہ کے ایک یہودی بازار میں گئی ۔ ایک یہودی نے اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ عورت نے فریاد کرتے ہوئے کہا: وا اسلاماہ (ہائے اسلام) قریب کے ایک مسلمان نے اس کو سنا اور فوراً ہی تلوار لے کر یہودی کی گردن مار دی۔ اسی طرح عموریہ میں ایک مسلم عورت کو رومیوں نے گرفتار کر لیا۔ اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا : وا معتصماہ (ہائے معتصم) ایک مسلمان نے اس پکار کو سنا اور اس کو بغداد کے خلیفہ معتصم تک پہونچایا۔ خلیفہ معتصم فوراً فوج لے کر روانہ ہوا اور عموریہ پہونچ کر مسلم خاتون کو رہائی دلائی۔ تاریخ اسلامی کے ان دو واقعات کو نقل کرنے کے بعد صاحب کتاب لکھتے ہیں: کم انطلقت صيحات الاستغاثة کتنی ہی بار فلسطین میں اور لبنان کے خیمہ گاہوں والاستنجاد من افواه الثكالى واليتامى میں اور مختلف ملکوں میں بیواؤں اور یتیموں اور والشيوخ والاطفال فى فلسطين وفى مخيمات بوڑھوں اور بچوں کے منہ سے فریاد اور اعانت لبنان وفى شتى بلاد المسلمين دون ان تلقى طلبی کی پکار بلند ہوئی ۔ مگر مسلمانوں کی طرف سے من المسلمين استجابة ۔ لم يتحرك فى الامة انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ امت میں کوئی رہنما قائد ولا زعيم ولا فريق ولا عميد اور کوئی لیڈر اور کوئی جماعت اور کوئی حاکم لنجدة هؤلاء المستغيثين وكأن المسلمين ان کی مدد کے لیے حرکت میں نہیں آیا۔ گویا کہ روئے في ارجاء الارض لا يعنيهم امر اخوانهم زمین کے مسلمانوں کے لیے ان کے بھائیوں کا صفحہ (۶۰ - ۶۱) معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ صاحب کتاب کے یہ آخری الفاظ بالکل خلاف واقعہ ہیں ۔ حقیقت عین اس کے برعکس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader