Urdu book · تصویر ملت

ایک جائزہ

Urdu book, p. 365

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک نئی فصل اگ آئی ۔ ہندو مسلم نفرت ہی دونوں فرقوں کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔ اس زہریلی سیاست کی تکمیل ۱۹۷۱ء میں ہوئی جب کہ پاکستان کی صورت میں دونوں فرقوں کے درمیان نفرت کی ایک ایسی دیوار کھڑی ہو گئی جو دیوارِ برلن سے بھی زیادہ مضبوط تھی ۔ بیسویں صدی کے وسط سے دوبارہ اس ملک میں اسلام کی اشاعت کا کام رک گیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ مسٹر جناح کی وہ سیاست ہے جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تلخی کی فضا پیدا کر دی ۔ اب دوبارہ زمین و آسمان کو کسی ایسے دن کا انتظار ہے جب کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت کا یہ ماحول ختم ہو اور اسلام کی اشاعت کا دروازہ دوبارہ کھل جائے جس طرح وہ اس سے پہلے کھلا ہوا تھا ۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ تحریف سے پاک ہے ۔ لمبی تاریخ کے نتیجہ میں وہ ایک قائم شدہ دین بن چکا ہے ۔ اسلام کی ان خصوصیات نے اب اس کے اندر یہ طاقت پیدا کر دی ہے کہ وہ اپنے آپ پھیلے ۔ وہ خود اپنے زور پر انسانوں کے دلوں میں داخل ہو ۔ خود بخود اشاعت کے اس عمل میں واحد رکاوٹ یہ ہے کہ اسلام اور اس کی مدعو قوموں کے درمیان نفرت اور تلخی کی فضا پیدا ہو جائے ۔ اسلام کی اشاعت کے لیے اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کسی عمل سے ایسی غیر موافق فضا پیدا نہ ہونے دیں ۔ اگر مسلمان صرف اتنا کر سکیں تو اسلام اپنے آپ لوگوں کے اندر نفوذ کرنے لگے گا ۔ اس کے بعد اسلام کی توسیع واشاعت کے لیے کسی براہِ راست جدوجہد کی ضرورت نہیں ۔ تبلیغی جماعت کا اصل نشانہ اگرچہ مسلمانوں کی دینی اصلاح ہے ۔ مگر اس کے ذریعہ سے منافرت کو ختم کرنے کا وہ کام بالواسطہ طور پر انجام پارہا ہے جو اس سے پہلے صوفیار کے ذریعہ زیادہ بڑے پیمانہ پر انجام پایا تھا ، اگر یہ عمل مقابلتاً بلحاظ حد تک بڑھ جائے تو انشا اللہ اشاعتِ اسلام کا رکا ہوا کام دوبارہ ملک میں جاری ہو جائے گا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page