ایک حقیقت
Urdu book, p. 368
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالبهاتی مہم شروع کردیں۔ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہونچانے کے لیے ہمیں ان کے مقابلہ میں وہی کرنا ہوگا جو جو مسلمانوں کے سلسلہ میں تبلیغی جماعت کر رہی ہے۔ یعنی ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ ان کے سامنے بالکل بے غرض بن جانا۔ اگر ہم اس ملک میں " مانگنے والے بنے ہوئے ہوں تو عین اسی وقت ہم انھیں " دینے والے نہیں بن سکتے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو غیر مسلموں کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنے مسلمانوں کے لیے۔ اصل یہ ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے ، اسی طرح داعی بننے کی بھی ایک قیمت ہے۔ مسلمان ابھی تک اس ملک میں داعی نہیں بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک اس کی قیمت ادا نہیں کی۔ داعی بننے کی قیمت کیا ہے ۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی مدعو کی نظر میں آخری حد تک بے غرض بن جائے ، خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی بڑی قربانی دینی ہو اور اسے کچھ بھی برداشت کرنا پڑے۔ مدعو کی نظر میں اس کی ایک ہی تصویر ہو۔ اور وہ داعی کی تصویر ہو۔ مدعو کی نظر میں داعی کا مقام حاصل کرنے کے لیے وہ یک طرفہ طور پر مدعو سے اپنے تمام قومی اور مادی جھگڑے ختم کر دے ۔ مدعو سے قومی نزاع کھڑی کرنا ، مدعو سے مادی مطالبات کرنا، حتیٰ کہ تہذیبی تشخص حاصل کرنے کے نام پر مدعو کے مقابلہ میں احتجاج کی مہم چلانا، یہ سب دعوتی مصالح کے سراسر خلاف ہے۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو داعی اپنے داخلی عمل کے زور پر حاصل کر سکتا ہے۔ اور جس چیز کا حصول خود اپنے عمل کے ذریعہ ممکن ہو اس کے لیے مدعو سے احتجاج و مطالبہ کی مہم چلانا دعوتی شریعت میں جائز نہیں۔ ایثار فعل دعوت کے امکانات کو ذبح کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں وہ نہ اللہ کی نگاہ میں داعی قرار پا سکتے ہیں اور نہ بندوں کی نگاہ میں ۔ خواہ اس کام کو وہ اسلام کے نام پر کر رہے ہوں۔ خواہ اس کام کے لیے انھوں نے خوب صورت دینی الفاظ تلاش کر لیے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader