Urdu book · تصویر ملت

خود فریبی

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

خود فریبی بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی کو ’’شہید‘‘ کا لقب دے کر اس کی دھوم مچا رہے ہیں۔ اگر آپ ان صاحب کو شہید کے بجائے مقتول کہہ دیں تو وہ آپ سے اس طرح بگڑ جائیں گے جیسے کہ نعوذ باللہ آپ نے خدا کی شان میں کوئی گستاخی کردی ہے۔ حالانکہ خود ان لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ایسی زندگی کو پسند کئے ہوئے ہوں گے جس کا شہادت اور قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی کو بزرگ بن کر اس کی بزرگی کی جھوٹی کہانیاں خوب بیان کریں گے۔ اگر آپ ان بزرگ کے ساتھ مصنوعی القاب نہ لکھیں یا ان کا نام ایک عام آدمی کی طرح لے لیں تو وہ آپ پر اس طرح برس پڑیں گے جیسے کہ آپ نے کسی حرام فعل کا ارتکاب کردیا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف الفاظ کی دنیا میں ہوگا۔ عملاً ان لوگوں کا اپنا حال یہ ہوگا کہ ان کی زندگی ان اوصاف سے ضروری حد تک بھی خالی ہوگی جن کو وہ اپنے مفروضہ بزرگوں میں مبالغہ آمیز حد تک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بظاہر غیر پرستی ہے۔ مگر حقیقتاً یہ خود پرستی کی بدترین قسم ہے۔ کسی کی بڑائی کے نام پر اپنے آپ کو بڑا بنانے کی کوشش ہے۔ یہ دوسرے کی شہادت اور قربانی کا قصیدہ پڑھ کر اپنے آپ کو شہیدوں کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ یہ دوسروں کی بزرگی کا چرچا کرکے اپنے آپ کو بزرگوں کے زمرہ میں داخل کرنا ہے۔ یہ کچھ مسلم شخصیتوں کو نمایاں کرکے ان کی فہرست کمال میں اپنا اندراج کرنا ہے۔ یہ اس نفسیات کو تسکین دینا ہے کہ ـــــــــ ہم خود بڑے نہیں، مگر ہم کو بڑوں سے نسبت تو حاصل ہے۔ حالانکہ اس قسم کی نسبت کی خدا کے یہاں کوئی حقیقت نہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں انھیں شاید یہ معلوم نہیں کہ یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے نہ کہ مفروضات کی دنیا۔ اس دنیا میں ہر آدمی حقیقت کے پیمانہ سے ناپا جا رہا ہے۔ ہر آدمی وہ ہے جو حقیقت واقعہ کی نسبت سے وہ قرار پائے نہ کہ وہ جو وہ خود ساختہ مفروضات کے خانہ میں ظاہر ہو۔ بڑوں کی مدح خوانی سے کوئی بڑا نہیں ہو جاتا۔ بڑا وہ ہے جو حقیقت واقعہ کی نظر میں بڑا ہو۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: لیس للانسان الا ما سعی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page