Urdu book · تصویر ملت

سرکشی

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

سرکشی ایک لطیفہ ہے ۔ ایک مسجد کے امام صاحب تھے ۔ ان کے گھر پر محلہ کے یہاں سے سامان آیا کرتا تھا۔ گھر والے قرض پر سامان منگا تے رہے یہاں تک کہ رقم زیادہ ہو گئی۔ بنانے کہا کہ پہلے پہلا قرض ادا کرو اس کے بعد اور سامان لے جاؤ ۔ امام صاحب دنیا کی اس گستاخی پر خفا ہو گئے ۔ جمعہ کے روز جب محلہ کے تمام لوگ مسجد میں جمع تھے ، امام صاحب نے کہا کہ بھائیو ، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں اس کو سنو تمہارے محلہ کا بنیا کا فرومشرک ہے۔ آپ میں سے کوئی شخص اس کے یہاں سے سامان نہ خریدیے۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن وحدیث کے نصوص پیش کیے اور کہا کہ ان آیتوں اور حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص کافر ومشترک ہو اس سے معاشی تعلق نہیں رہنا چاہیے ۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا " امام صاحب ، بنیا تو ۲۵ برس سے یہاں دکان کر رہا ہے ، پھر آج ہی یہ مسئلہ آپ کیوں بیان کر رہے ہیں ؟" امام صاحب نے بگڑ کر کہا تم کافروں کے ساتھی ہو اس لیے تمہارا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے ۔ امام صاحب نے بظاہر قرآن وحدیث کے حوالے دیے تھے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس خاص معاملہ میں خود امام صاحب غلطی پر تھے نہ کہ بنیا ۔ اس معاملہ میں اصلی اور بنیادی بات صرف یہ تھی کہ امام صاحب کے اوپر بنیا کا حق تھا جس کو انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ اس کے سوا امام صاحب نے جو باتیں کہی ہیں وہ سب اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر متعلق (Irrelevant) ھیں ۔ یہی معاملہ آج کل مسلم معاشرہ کا ہورہا ہے ۔ ایک مسلمان دوسرے شخص کا حق مارے گا ۔ اور جب حق دار اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرے گا تو وہ حق دار کو اس کا حق لوٹانے کے بجائے یہ کرے گا کہ وہ اس کو طرح طرح سے بدنام کرنا شروع کر دے گا ۔ حالال کہ یہ سب غیر متعلق باتیں ہیں ۔ مذکورہ مسلمان کو سب سے پہلے غضب شدہ حق لوٹانا چاہیے ۔ اس کے بعد ہی وہ مزید جو کچھ کہنا چاہتا کہہ سکتا ہے۔ حق غضب کرنا غلطی ہے ۔ اور غضب کرنے کے بعد صاحب حق کے خلاف بدنامی کی مہم چلانا غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے ۔ یہ آدمی کے جرم کو بڑھاتا ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اس کے جرم کو کم نہیں کرتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page