Urdu book · تصویر ملت

پیغمبر کو ماننا

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کو ماننا لوئی بونیمل (Luise Bumule) فرانس کا مشہور فلم پروڈیوسر ہے۔ وہ ۱۹۰۰ میں پیدا ہوا۔ اور ۱۹۸۳ میں وفات پائی۔ ابتداز اس کو مسیحیت کی تعلیم دی گئی۔ اس کے بعد وہ فلمی صنعت میں داخل ہوگیا۔ مگارین ، اگست ۱۹۸۳ میں اس کے کچھ خیالات شائع کئے گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ آج بے شمار لوگ مسیحی ہیں ۔ مگر وہ اضافی طور پر مسیحی ہیں نہ کہ حقیقی طور پر۔ حضرت مسیح اگر آج زمین پر واپس آئیں تو ان کے ماننے والے دوبارہ ان کو سولی پر چڑھا دیں گے: If Christ came back, they'd crucify Him all over again لوئی بونیمل کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مروجہ مسیحیت حضرت مسیح کے لائے ہوئے مذہب سے اتنی مختلف ہے کہ آج اگر حضرت مسیح زندہ ہوں تو خود ان کے ماننے والے انھیں برداشت نہ کریں۔ تاہم مسلمانوں کا حال بھی اس معاملہ میں ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ آج دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب مسلمان ہیں جو محمد مصطفیٰ علیہ وسلم کے معتقد ہیں اور ان کے نام پر لڑنے مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ مگر ان مسلمانوں کا سارا جوش محمد کی تاریخ سے ہے نہ کہ خود محمد سے۔ وہ " محمد " جس کے ساتھ تاریخ شامل نہ ہو وہ موجودہ مسلمانوں کے لئے بھی اتناہی اجنبی ہے جتنا وہ اپنے ہم زمانہ لوگوں کے لئے تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچھلے چودہ سو سال میں عظمت کی جو روایات جمع ہو چکی ہیں۔ اگر آپ کی ذات سے ان کو ہٹا دیا جائے اور آپ دوبارہ اسی ابتدائی حالت میں ظاہر ہوں جیسا کہ آپ قدیم مکہ میں ظاہر ہوئے تھے تو مجھے اپنے علم و تجر بہ کی حد تک یقین ہے کہ مسلمانوں میں آپ کو پہچاننے والے اتنے بھی نہ نکلیں گے جتنی ایک آدمی کے ہاتھ میں انگلیوں کی تعداد ہوتی ہے۔ مسلم اداروں میں جس محمد کی دھوم ہے وہ تاریخی محمد ہیں نہ کہ وہ محمد جو تاریخ بننے سے پہلے تھے۔ تاریخ بننے سے پہلے والے محمد اگر آج ان اداروں میں آجائیں تو ان کو نہ کوئی ادارہ شیخ التفسیر بنائے اور نہ شیخ الحدیث۔ ان کو نہ کسی جلسہ کی صدارت ملے اور نہ کسی جماعت کی امارت۔ مسلمانوں کی بستی سے وہ اسی طرح بے رحمی کے ساتھ نکال دئے جائیں جس طرح مکہ والوں نے اپنے زمانہ کے محمد کو نکال دیا تھا۔ قدیم مکہ والے محمد کو پانے کے لئے جو ہر کی بنیاد پر سرداری درکار ہے اور مسلمان آج اس صفت سے محروم ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page