Urdu book · تصویر ملت

ایک معجزہ جو کبھی پیش نہیں آیا

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک معجزہ جو کبھی پیش نہیں آیا ایک مصیبت زدہ بستی تھی۔ ڈاکوؤں نے اس کے باشندوں کے گھروں کو جلا دیا تھا۔ ان کی معاشیات تہس نہس ہو گئی تھی۔ ان کو اپنے چاروں طرف ناکامی اور بربادی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک روز اچانک بستی کے ایک بزرگ کو ایک معجزاتی تدبیر سوجھی۔ ان کو نظر آیا کہ بستی کے مسئلہ کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ ہر روز کسی خالی میدان میں جا کر ۵۱ پھلجھڑیاں چھوڑیں۔ انھوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔ چند روز کے بعد ان کو اندازہ ہوا کہ ان کے پاس پھلجھڑیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اب وہ روزانہ ۱۰۱ پھلجھڑیاں چھوڑنے لگے۔ مزید اضافہ ہوا تو انھوں نے پھلجھڑیوں کی تعداد ۲۵۱ اور آخر میں ۳۰۱ کر دی۔ منصوبہ کامیاب رہا۔ ادھر وہ پھلجھڑیاں چھوڑتے رہے، ادھر بستی کے مکانات کے ملبہ سے شاندار کوٹھیاں ابھر نا شروع ہو گئیں۔ لوگوں کی اجڑی ہوئی دکانیں از سر نو تعمیر ہو کر سامان اور گاہکوں سے بھر گئیں۔ ان کے نوجوان تعلیم و ترقی کے میدانوں میں بے روک ٹوک دوڑنے لگے۔ ہر طرف بستی کی عزت و اقبال کے جھنڈے لہرانے لگے۔ ان کے دشمن ذلیل و خوار ہو کر ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو گئے اس تمام کارروائی میں ۱۲۳۷ پھلجھڑیاں استعمال ہوئیں اور حیرت انگیز طور پر اس میں صرف دو ہفتے لگے۔ ۹ جولائی ۱۹۷۹ کو تاریخ انسانی کی یہ انوکھی مہم شروع ہوئی اور ۲۵ جولائی ۱۹۷۹ کو شان دار کامیابیوں کے ساتھ ختم ہو گئی۔ اس بے نظیر کامیابی پر شاعروں نے اشعار لکھے۔ بیان دینے والوں نے بیانات دیے۔ تقریر کرنے والوں نے تقریریں کیں۔ بزرگ کے اپنے اخبار نے موٹی موٹی سرخیوں کے ساتھ اس کے فاتحانہ کارنامے شائع کئے ۔ مگر بستی والے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: " یہ معجزہ کہاں پیش آیا۔ ہم کو اس کا کوئی علم نہیں ۔ ہم تو اب بھی اسی بری حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے مکانات اب بھی ٹوٹے ہوئے ہیں ۔ ہماری دکانیں اب بھی اجڑی ہوئی ہیں۔ ہمارے بچوں کا مستقبل اب بھی اسی طرح غیر یقینی ہے جس طرح وہ پہلے غیر یقینی تھا۔ یہ انوکھا معجزہ شاید ایک انوکھا راز بھی ہے جس کو صرف پھلجھڑی سیاست کے ماہرین ہی جان سکتے ہیں ۔ دوسرا کوئی شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ آدھی الفاظ پا لیتا ہے صدر سادات نے ایک تقریر میں کہا: مصر اب تک ایک نامعلوم خوف وہراس میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے مصر ٹھٹھ کر رہ گیا تھا سب اب مصر کو اس خوف سے نجات مل گئی ہے۔ اب ہم فخر کے ساتھ ایک نئے مصر کی تعمیر کر سکتے ہیں (۱۹ جولائی 1949) مصر اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتہ بہت سے لوگوں کے نزدیک عرب مفادات سے غداری ہے۔ مگر اسی واقعہ کے بارے میں صدر سادات نے یہ الفاظ پالئے کہ وہ مصر کے لئے نئے شان دار دور کا دروازہ کھولتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page