Urdu book · تصویر ملت

عمل کم الفاظ زیادہ

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کم الفاظ زیادہ مسٹر سی۔ ایس۔ جھا اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نمائندہ رہ چکے ہیں۔ اگست۔ ستمبر ۱۹۶۵ میں ہند و پاک جنگ کے بعد تاشقند میں جو کانفرنس ہوئی، اس میں وہ شریک تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس کانفرنس میں سابق صدر محمد ایوب خاں کارجان مصالحت کی طرف تھا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو اور مسٹر عزیز احمد کا خیال تھا کہ ہندوستان جب تک کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کے موقف کو نہ تسلیم کرے، کوئی معاہدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں کہ ۶ جنوری ۱۹۶۶ کو روسی سفیر بانوں کی طرف سے کھانے کی ایک دعوت تھی ۔ مسٹر عزیز احمد نے گفتگو کے دوران اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا جس پر تین سطوروں میں ایک عبارت لکھی ہوئی تھی ۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ان کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ کا مجوزہ مضمون تھا۔ جو مسٹر بھٹو نے بنسل سے لکھا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ” فریقین نے کشمیر کے سوال پر تبادلہ خیال کیا اور اس پر متفق ہو کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کے ریزولیوشن کے مطابق پرامن حل کے لئے باہم گفتگو کریں گے“، اس کے بعد مسٹر جھا لکھتے ہیں: بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ مسٹر بھٹو جس چیز کو جنگ کے ذریعہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اس کو وہ تاشقند میں حاصل کر لینا چاہتے ہیں (السٹر بیٹڈ ویکلی ۶ مئی ۱۹۶۹) It seemed that Bhutto wished to succeed in Tashkent in what he had failed to achieve by war! آخری جملہ میں مسٹر جھا نے جو تبصرہ کیا ہے، وہ موجودہ دور کی پوری مسلم سیاست پر صادق آتا ہے، ہمارے قائدین آج جس سیاست میں مشغول ہیں وہ ہر جگہ یہی ہے کہ میدان مقابلہ میں ہاری ہوئی بازی کو تقریروں اور تحریروں کے زور پر دوبارہ جیت لیں۔ عدم تیاری ، ناقص منصوبہ بندی، اتحاد کی کمی ، صورت حال کا غلط اندازہ، یہ وہ چیزیں ہیں جنھوں نے ہمارے قائدین کے بڑے بڑے اقدامات کو ناکام بنا دیا ہے ۔ ان کے لئے دوسرا راستہ یہ تھا کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے اور دوبارہ صحیح تیاری کرکے کھوئی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ۔ مگر وہ حیرت انگیز جسارت کے ساتھ الفاظ کو عمل کا قائم مقام بنانے میں مشغول ہیں۔ زندگی کے معاملات کا فیصلہ عمل کے میدان میں ہوتا ہے نہ کہ الفاظ کے میدان میں۔ عمل کے حقیقی میدان میں جو لوگ قیادتی اہلیت کا ثبوت نہ دے سکیں وہ اکثر بحث و گفتگو کی میز پر یا تقریر کے پنڈال میں لفظوں کے کرتب دکھا کر اپنے کو با عمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر اس قسم کی عملیت صرف آدمی کے جرم میں اضافہ کرتی ہے ۔ ایک شخص جب حقیقی علی امتحان میں ناکام ہو جائے تو اس کے لئے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ اپنی نااہلی کا اعتراف کر کے خاموش بیٹھ جائے یا پھر اپنے منصوبے کی خامیوں کو درست کرکے دوبارہ صحیح تر انداز سے اس کی جدوجہد شروع کرے۔ اس کے بجائے لفظی کمالات کے ذریعہ عمل کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ایک ایسا فعل ہے جو نہ خدا کی نگاہ میں کوئی قیمت رکھتا ہے اور نہ بندوں کی نگاہ میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page